ریسٹورینٹ میں سروس ٹیکس کی ادائیگی صارفین کی مرضی پر منحصر

حکثیر تعداد میں صارفین سے ایسی شکایات موصول ہوئی تھیں کہ ہوٹلوں اور ریسٹورینٹوں میں ان سے 5 سے لیکر 20 فیصد تک کا سروس ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جس کو صارفین کو ہر صورت میں ادا کرنا ہوتا ہے، خواہ ان کو فراہم کردہ خدمات اچھی رہی ہوں یا خراب۔ صارفین کے تحفظ کے لئے ایکٹ 1986 کے مطابق کوئی بھی تجارتی عمل جو کسی سامان یا اشیا کی فروخت کو فروغ دینے کے لئے ہو، یا کسی سامان اور اشیا کے استعمال یا سپلائی کو فروغ دینے کے لئے ہو اور اس میں غلط اور گمراہ کن طریقہ استعمال کیا جاریا ہو تواس کو غیر منصفانہ تجارتی عمل سے تعبیر کیا جائے گا اور صارفین اس غیر منصفانہ تجارتی عمل کے بارے میں مناسب صارفین فورم میں شکایت درج کراسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں مرکزی حکومت کے محکمہ برائے امور صارفین نے ہوٹل ایسوسی ایشن آف انڈیا سے وضاحت طلب کی تھی، جس کے جواب میں ہوٹل ایسوسی ایشن آف انڈیا نے کہا ہے کہ سروس چارج ادا کرنا مکمل طور پر صارفین کی مرضی اور صوابدید پر منحصر ہے۔ صارفین ریسٹورینٹ یا ہوٹل میں اپنے کھانے کے تجربے پر ناپسندیدگی کا بھی اظہار کرسکتے ہیں اور وہ سروس ٹیکس ادا کرنے میں کلی طور پر بااختیار ہیں۔لہذا سروس چارج کی ادائیگی کو رضاکارانہ طور پر دیکھا جانا چاہیے۔