ہنر مند اقلیتوں کیلئے ہنر ہب قایم کرنے مختار عباس نقوی کا اعلان

نئی دہلی، 24مارچ اقلیتی امور (آزادانہ چارج) اور پارلیمانی امور کے وزیر مملکت جناب مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ اقلیتی برادیوں سے تعلق رکھنے والے ماہر فنکاروں کو بازار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ملک کی تمام ریاستوں میں ’’ہنرہب‘‘ قائم کیا جائے گا تاکہ ان کی وراثت کا تحفظ کیا جاسکے۔ اور ان کی تشہیر کی جاسکے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ اقلیتی برادریوں کے فنکاروں اور دستکاروں کا ایک ’’ڈیٹا بینک‘‘ تیار کیا جارہا ہے۔ جناب نقوی نے یہاں نئی دہلی میں پرنسپل سکریٹریوں اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اقلیتی فلاح وبہبود کے سکریٹریز، انچارج کی منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد اقلیتی امور کی وزارت کے کثیر جہتی ترقیاتی پروگرام، اسکالرشپ اور دیگر اسکیموں کے نفاذ کی

پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔ جناب نقوی نے کہا کہ اقلیتی امور کی وزارت نے فنکاروں کے فن اورہنر کی ترقی کے لیے ایک مہم شروع کی ہے تاکہ جدید تقاضوں کے مطابق انھیں اپ گریڈ کیا جاسکے۔ اقلیتی وزیر نے کہا کہ ریاستوں کو چاہیے کہ وہ ’’ہنر ہب‘‘ سے متعلق اقلیتی وزارت کو

تجاویز بھیجیں۔ اقلیتی امور کی وزارت کم از کم ان دو درجن ریاستوں میں ’’ہنر ہب‘‘ قائم کرنا چاہتی ہے جہاں ہنرہاٹ اور دیگر سماجی تعلیمی اور ہنرمندی کے فروغ کی سرگرمیاں انجام پائیں گی۔

جناب نقوی نے مزید کہا کہ وزارت اقلیتی امور کے زیر اہتمام منعقدہ ’’ہنرہاٹ‘‘ کو ملکی اور غیر ملکی زائرین نے خوب پسند کیا۔ ’’ہنرہاٹ‘‘ ماہر فنکاروں کو مواقع فراہم کرنے کا ایک موثر ذریعہ بن گیا ہے۔ اس کے تحت وہ نہ صرف ملکی غیر ملکی باشندوں کے سامنے بھی اپنی مالامال وراثت کی نمائش کرسکتے ہیں۔

وزیر نے کہا کہ گذشتہ مہینوں میں اقلیتی امور کی وزارت نے 262 کروڑ کی لاگت سے 200 سے زائد ’’سد بھاؤ منڈپ‘‘ اور تقریبا 24 ’’گروکل‘‘ طرز کے اسکولوں کے قیام کی بھی منظوری دی ہے۔ ’’سدبھاؤ منڈپ‘‘ کا استعمال متعدد ثقافتی، سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں کے کمیونٹی سینٹرز کے طور پر کیا جائے گا اور اسی کے ساتھ قدرتی آفات کے دوران یہ راحتی مراکز کا کام بھی کریں گے۔ اقلیتی وزیر نے کہا کہ سوچھ بھارت مشن کو مضبوط بنانے کے لیے اقلیتی امور کی وزارت نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ ملک بھر کے ایک لاکھ مدارس میں بیت الخلا تعمیر کیے جائیں گے۔یہ مدارس سے متعلق ’’تین ٹی‘‘ ٹیچر، ٹفن اور ٹوائلٹ کا ایک حصہ ہے۔ وزیر نے مزید کہا کہ اقلیتی امور کی وزارت کے بجٹ میں گذشتہ کئی سالوں کے بعد نمایاں طور پر اضافہ کیا گیا ہے۔ مرکزی بجٹ میں 2017

-18 میں وزارت کے بجٹ کو بڑھا کر 4195.48 کروڑ روپے کردیا گیا ہے۔ 2016-17 کے مختص کردہ بجٹ 3827.25 کروڑ روپے میں 368.23 کروڑ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ تقریبا نو فیصد ہے۔ اس بجٹ کے 73 فیصد سے زائد حصہ کا استعمال اقلیتوں کی تعلیمی خود مختاری اور ان کے لیے ملازمت رخی پروگراموں کے لیے کیا جائے گا۔

جناب نقوی نے کہا کہ اقلیتی امور کی وزارت اقلیتی طبقہ کو روایتی اور جدید تعلیم فراہم کرنے کی غرض سے عالمی سطح کے پانچ تعلیمی ادارے قائم کرنے جارہی ہے۔ عالمی سطح کے ادارے ملک بھر میں قائم کئے جائیں گے اور ان میں تکنیکی، طبی، آیوروید اور یونانی وغیرہ کی تعلیم دی جائے گی۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ ان اداروں کے قیام سے متعلق لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کام کر رہی ہے اور کمیٹی اپنی رپورٹ جلد سونپ دے گی۔ مرکزی حکومت ایک ایسی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے جس سے ان اداروں کو 2018 میں شروع کیا جاسکے۔ اقلیتی امور کی وزارت نے ان اداروں میں لڑکیوں کے لیے چالیس فیصد ریزرویشن کی تجویز پیش کی ہے۔ جناب نقوی نے کہا کہ اقلیتوں کی تعلیمی خودمختاری سے متعلق کی جانے والی ہماری کوششوں میں غریب نواز اسکل
ڈیولپمنٹ سینٹر، لڑکیوں کے لیے بیگم حضرت محل اسکالر شپ، اور 500 معیاری رہائش اسکولوں اور ملازمت رخی ہنرمندی کے فروغ کے مراکز کا قیام شامل ہیں۔