غیر مسلمہ اسکولس بند کرنے پر کئی طلبا کا نقصان ہوگا: کے سی آر

چیف منسٹر کے سی آر نے پرایمری  سے لے کر یونیورسٹی کی تعلیم پر اسمبلی میں جامع مباحث کی ضرورت پر زور دیا ہے اسمبلی میں,وقفہ سوالات کے دوران  خانگی اسکولس انتظامیہ کی جانب سے زاید فیس وصول کرنے اور کئی خانگی اسکولس کو مسلمہ حیثیت نہ ہونے کے مسلہ پر جواب دیتے ہوے چیف منسٹر نے کہا کہ غیر مسلمہ اسکولس کے بند کردینے پر کئی طلبا کا نقصان ہوگا.اس لئے اس مسلہ پر اسمبلی میں ارکان کی راے حاصل کی جاے گی.انھوں نے کہا کہ تعلیم سے متعلق مسایل کی یکسوئی کے لئے ایوان,میں خصوصی مباحث کو منعقد کرنے حکومت کا ارادہ ہے اسپیکر اس کے لئے وقت دیں.کے سی آر نے کہا ریاست میں تعلیم کا نظام بگڑ گیا ہے یو پی اے نے آر ٹی ای قانون لازمی تعلیم  شروع کرتے ھوے کئ مسایل پیدا کئے ہیں جس پر عمل آواری کے لئے دشواریاں پیش آرہی ہیں جس سے 40 ہزار اساتذہ کی خدمات سوالیہ نشان بن جاے گی.انھوں نے کہا کہ تعلیم سے وابستہ تمام محکموں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی ضرورت یے چیف منسٹر نے کہا کہ فیس ریمبرسمنٹ کے معاملہ میں بھی ایک پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ تھوڑے تھوڑے وقفہ میں طلبا فیس کے لئے احتجاج کرتے ھوے سڑکوں پر آرہے ہیں کے سی آر نے کہا کہ فیس کا مطالبہ کرتے ھوے طلبا کو سڑک پر اترنے کی ضرورت نہیں ہے چیف منسٹر نے کہا کہ طلبا کے احتجاج کو ختم کرنے کے لئے فیس کے تمام بقایاجات کو اپریل تک ادا کردینے کی ہدایت دی گئی ہے اور فینانس کے عہیداوروں سے کہا گیا کہ وہ ہر ماہ فیس