لڑکے لڑکیوں کے ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندی کا فیصلہ واپس

پاکستان کی سوات یونیورسٹی میں لڑکے اور لڑکیوں کے ایک ساتھ گھومنے پھرنے اور ساتھ بیٹھنے پر پابندی لگانے کے 24 گھنٹوں کے اندر اس اعلامیہ کو نہ صرف واپس لے لیا گیا بلکہ حکم جاری کرنے والے عہدیدار کو ہٹادیا گیا۔ دو دن پہلے اس سلسلسہ میں کیمپس میں نوٹس لگایی گیی تھی جس میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ لڑکے لڑکیاں کیمپس کے اندر اور باہر ایک ساتھ بیٹھ نہیں سکتے اور نہ ہی ساتھ گھوم پھر سکتے ہیں۔ خلاف ورزی پر 500 روپیے سے لے کر 5 ہزار روپیے تک جرمانہ کی دھمکی دی گیی تھی۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ چیف پراکٹر حضرت بلال نے حد سے تجاوز کیا۔وایس چانسلر کی اجازت کے بغیر کسی بھی قسم کی نوٹس جاری نہیں کی جاسکتی ۔یونیورسٹی کے وایس چانسلرجہاں بخت نے اس طرح کی نوٹس جاری کرنے کے معاملہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی اور نوٹس جاری کرنے پر چیف پراکٹر کو ہٹادیا گیا۔