تلنگانہجرائم و حادثاتنیشنل

بوڑھے شیوخ سے غریب لڑکیوں کی شادی 20 گرفتار،خواتین دلال کا اہم رول: پولیس

حیدرآباد18 ستمبر/ حیدرآباد کی پولیس نے بوڑھے شیوخ سے غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی شادیوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے 20 افراد کو گرفتارکرلیا ۔ پکڑے جانے والوں میں 5 عمانی باشندے، قطر کے تین شہری ال صالح طالب حمید علی، ال عبیدنی جمع شینون سلیمان،ال صالحی ناصر خلیفہ حامد، ال قاسمی حسن معزول محمد، عمر محمد سراج عبدل الرحمان، حامد جابر و کوواری، سفیل الدین محمد صالحی کے علاوہ 3 قاضی بشمول ممبئی کا چیف قاضی فرید الدین اور نائب قاضی منور علی ،عبدل رافعی ساکن تالاب کٹہ حیدرآباد شامل ہیں ۔ ان کے ساتھ ساتھ 9 دلالوں اور 5 ہوٹل مالکین کو بھی گرفتارکرلیا گیا ہے جن کے نام سکندرخان، احمد، غوثیہ،محمد آصف بتائے گئے ہیں۔

حیدرآباد کے کمشنر پولیس مہیندرریڈی نے پریس کانفرنس میں ان معمر شیوخ سے نابالغ لڑکیوں کی شادی کی تفصیلات کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ ان شیوخ کی مکمل دیکھ بھال رہنے کھانے کا انتظام مقامی دلال کرتے ہیں۔ وہ غریب خاندانوں سے رجوع ہوکر ان کی لڑکیوں کوشاندار مستقبل کے خواب دکھاتے ہوئے رقم لے کر معمر شیوخ سے ان کی شادیاں کرواتے ہیں۔شادی سے پہلے لڑکی کا اس کے ہونے والے بزرگ دلہے سے انٹرویو کروایا جاتا ہے اگر لڑکی خوبصورت ہو تو دلال قیمت بڑھا دیتے ہیں۔ شادی کے لئے دلال بوڑھے شیوخ

سے ذیادہ رقم لے کر اس کا کچھ حصہ غریب لڑکی کے ماں باپ کو دیتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ دلال کم عمر لڑکیوں کی آدھار کارڈ میں تاریخ پیدا ئش تبدیل کرتے ہوئے اس کے زریعہ برتھ سرٹیفکٹس بھی حاصل کررہے تھے تاکہ لڑکیوں کو قانونی طور پر بالغ ثابت کیا جاسکے۔ مہیندرریڈی نے مزید کہا کہ پرانا شہر میں 35 سرگرم دلالوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو ایسی شادی کے انتظامات کرتے ہیں ان میں 20 خواتین ہیں۔ انھوں نے شادی کے نام پر کم عمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے والوں کو سخت قانونی کاروائی کا انتباہدیا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button