اسپشل اسٹوری

ملک کا پہلا زنخا بنا جج

نئی دہلی 18اکتوبر/ عام طورپر زنخوں کو سماج میں امتیازانہ سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایسے میں ان میں چھپی صلاحیتیں بھی باہر نہیں آتی لیکن ایک زنخا نے ان تمام حدود کو پار کرتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور تعلیم کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے سماج میں وہ مقام و رتبہ حاصل کیا جس پر سب حیرت سے اسے دیکھتے رہ گئے۔ ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کے ضلع اسلام پورکی عدالت میں پہلے زنخا انگریزی میں کہیں تو ٹرانس جینڈرکوجج مقررکیا گیا۔29 سال  کےجوئیتا مالا مونڈال کولکتہ میں پیداہوا/ہوئی. اسکول میں امتیازی سلوک کےباعث 2009 میں اپنا گھرچھوڑکرشمالی بنگال کے ضلع اسلام پورمیں رہائش اختیارکی اور یہاں سے زنخوں کے حقوق کے لیے تنظیم قائم کی۔ سپریم کورٹ نے2014 میں خواجہ سراؤں کو تیسری جنس کے طورپرشناخت دیتےہوئے حکومت کو احکامات جاری کئے تھے کہ زنخوں کو ملازمتوں اورتعلیمی اداروں میں مخصوص کوٹہ جاری کیا جائے۔ عدالتی احکامات کےتحت خواجہ سرا جوئیتامالامونڈال کو بنگال کےضلع اسلام پور کی لوک عدالت کی پہلاجج مقررکردیا گیا،جوئیتا مالا ملک کا پہلازنخا ہے جن کو جج مقررکیاگیا ہے۔ اسی طرح بعض زنخوں نے بھی ترقی کی ہے لیکن ان میں اکثریت ان کی ہے جو اپنی دنیا میں آپ مگن رہتے ہوئے اور اپنے اندرچھپی صلاحیتوں کوسامنے نہیں لا پاتے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button