پاکستان میں بھی ’کاکروچ عوامی پارٹی‘ قائم

نئی دہلی: ایکس پر کارروائی کے بعد اب انسٹاگرام پر بھی کاکروچ جنتا پارٹی کا راستہ روکا جا رہا ہے۔ سی جے پی کا انسٹاگرام پیج ہیک کر لیا گیا ہے دوسری جانب پاکستان میں بھی ’’کاکروچ عوامی پارٹی‘‘ وجود میں آ گئی ہے جسے وہاں کے نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر لانچ کیا ہے۔
بھارت کی کاکروچ جنتا پارٹی کی طرز پر پاکستان میں بھی ایک نئی پارٹی سامنے آ گئی ہے۔گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچانے والی طنزیہ ڈیجیٹل مہم ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ اب ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ بھارت میں جہاں اس پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اپنے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہیک اور بند کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے وہیں اس ٹرینڈ کا اثر اب پڑوسی ملک پاکستان میں بھی نظر آنے لگا ہے
جہاں ’’کاکروچ عوامی پارٹی‘‘ سمیت اسی نوعیت کی کئی طنزیہ جماعتیں سامنے آ گئی ہیں۔’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے بانی ابھیجیت دیپکے (جو بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم ہیں اور عام آدمی پارٹی کے سابق معاون رہ چکے ہیں) نے ہفتہ کے روز دعویٰ کیا کہ ان کی آن لائن موجودگی ختم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کی گئی ہے۔
ابھیجیت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ان کا ذاتی انسٹاگرام اکاؤنٹ اور پارٹی کا سرکاری انسٹاگرام پیج مکمل طور پر ہیک کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت میں ان کے ایکس اکاؤنٹ کو بھی روک دیا گیا ہے جبکہ بیک اپ اکاؤنٹس بھی حذف کر دیے گئے ہیں۔ابھیجیت نے خبردار کرتے ہوئے لکھا ’’براہِ کرم نوٹ کریں کہ اس وقت ہمیں کسی بھی پلیٹ فارم تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
اس کے بعد کی جانے والی کسی بھی پوسٹ کو کاکروچ جنتا پارٹی کا سرکاری بیان نہ سمجھا جائے۔‘‘اس سے قبل ابھیجیت نے واٹس ایپ پر جان سے مارنے کی دھمکیوں کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے تھے، جن میں انہیں سی جے پی کا پیج بند کرنے یا بی جے پی میں شامل ہونے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ سی جے پی کی شروعات تقریباً ایک ہفتہ قبل 16 مئی کو ہوئی تھی۔
یہ مہم بھارت کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک مبینہ بیان کے بعد شروع ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس نے فرضی ڈگری لے کر وکالت میں آنے والے افراد پر تنقید کرتے ہوئے ’’طفیلی‘‘ اور ’’کاکروچ‘‘ جیسے الفاظ استعمال کیے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ بے روزگار نوجوان ان کاکروچز کی طرح ہیں جو کبھی میڈیا بن جاتے ہیں اور کبھی احتجاجی کارکن۔تاہم بعد میں چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ ان کے
بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا تبصرہ صرف جعلی ڈگری رکھنے والوں کے لیے تھالیکن اس تنازع کے درمیان ابھیجیت دیپکے نے ’’کاکروچ‘‘ کو علامت بنا کر نوجوانوں، بے روزگاروں اور سست قرار دیے جانے والے افراد کی آواز کے طور پر اس ڈیجیٹل مہم کا آغاز کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چند ہی دنوں میں سی جے پی کے انسٹاگرام فالوورس کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی، جس نے بھارت کی بڑی سیاسی جماعتوں جیسے بی جے پی اور کانگریس کے فالوورس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
بھارت میں سی جے پی کی غیرمعمولی مقبولیت اور وائرل ہونے کے بعد اب پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی اسی طرح کے طنزیہ سیاسی گروہ سرگرم ہو گئے ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں اور جین زی نے بھارت کے اس ٹرینڈ کی نقل کرتے ہوئے کئی پیجز بنائے ہیں۔پاکستان میں قائم اس انسٹاگرام پیج نے اپنے بایو میں صاف لکھا ہے ’’ہاں، کاپی کیا ہے، لیکن کس کو پرواہ ہے؟ مقصد تو وہی ہے۔‘‘ اس پیج نے سبز اور
سفید رنگ کی برانڈنگ استعمال کی ہے اور خود کو پاکستان کے ہر جین زی نوجوان کی ’’حقیقی آواز‘‘ قرار دیا ہے۔ایکس پر سرگرم اس گروپ نے نعرہ دیا ہے: ’’ہر حالات میں زندہ ہیں۔‘‘ایک اور پاکستانی پیج نے اپنے تعارف میں لکھا ’’جنہیں سسٹم نے کاکروچ سمجھا، ہم انہی عوام کی آواز ہیں۔‘‘یہ پاکستانی پیجز خود کو ’’سست اور بے روزگار‘‘ نوجوانوں کا نمائندہ بتا رہے ہیں اور ملک کی روایتی سیاسی سوچ اور نظام کو چیلنج کر رہے ہیں۔
سی جے پی کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت کے درمیان سوشل میڈیا پر یہ تنازع بھی سامنے آیا کہ اس کے زیادہ تر فالوورس بھارت سے باہر یعنی پاکستان، بنگلہ دیش اور ترکی سے ہیں اور اس میں ’’بوٹ ایکٹیویٹی‘‘ (جعلی فالوورس) شامل ہے۔تاہم ہیک ہونے سے قبل بانی ابھیجیت دیپکے نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اعداد و شمار شیئر کیے تھے اور کہا
تھا کہ سی جے پی کے 94 فیصد فالوورز بھارتی نوجوان ہیں۔جو مہم محض ایک عدالتی تبصرے پر بنائے گئے میمز اور سیاسی طنز کے طور پر شروع ہوئی تھی وہ آج نوجوانوں کی بے روزگاری، تعلیمی نظام اور معاشی مسائل کو اجاگر کرنے والی ایک بڑی
سوشل میڈیا تحریک بن چکی ہے، جس کی گونج اب سرحد پار بین الاقوامی سطح پر پہنچ چکی ہے۔




