راہول گاندھی کا بڑا بیان – “مسلمان” لفظ بولنے سے نہ گھبرائیں : کانگریس کے مسلم قائدین کے اجلاس سے خطاب

نئی دہلی : کانگریس لیڈر و لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کانگریس پارٹی کے مسلم قائدین پر زور دیا ہے کہ وہ مسلمانوں سے متعلق مسائل کو کھل کر اٹھائیں اور پارٹی میں ان کی نمائندگی کو مضبوط بنانے کیلئے سرگرم کردار ادا کریں۔
ذرائع کے مطابق کانگریس کے اقلیتی شعبہ کی مشاورتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ اگر کسی مسلمان کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے تو اس کے خلاف صرف “اقلیت” کے نام پر نہیں بلکہ واضح طور پر “مسلمان” کی حیثیت سے آواز اٹھائی جانی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح اگر دلتوں، او بی سیز یا جنرل زمرہ کے افراد پر حملے ہوں تو متعلقہ طبقہ کا نام لے کر ان کے مسائل کو اجاگر کیا جانا چاہئے۔
اجلاس میں موجود ایک لیڈر کے مطابق راہول گاندھی نے واضح پیغام دیا کہ کانگریس کو “مسلمان” لفظ استعمال کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل لوگ کھل کر مسلمان کہنے کے بجائے صرف “اقلیت” کی اصطلاح استعمال کررہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راہول گاندھی نے کانگریس کے اقلیتی شعبہ کو ایسا پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جہاں مسلمانوں کو پارٹی کے اندر مناسب نمائندگی اور شرکت حاصل ہوسکے۔
انہوں نے مبینہ “ووٹ چوری” کے مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی پہلے اس معاملہ میں کانگریس کے ساتھ نہیں تھیں، لیکن اب انہوں نے بھی اس کے خلاف تحریک چلانے کی بات کی ہے۔
راہول گاندھی نے مغربی بنگال اور آسام اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ انتخابات “آزادانہ اور منصفانہ” انداز میں نہیں کرائے گئے۔




