نیشنل

دسمبر 15 سے جنوری 5 تک پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس

نئی دہلی۔24؍نومبر۔/ پارلیمانی اُمور کی کابینہ کمیٹی (سی سی پی اے) نے  آج سفارش کی ہے کہ اس سال پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس سرکاری کام کاج کی ضروریات کا لحاظ رکھتے ہوئے  15دسمبر  سے 5 جنوری 2018 کے دوران طلب کیا جائے۔ یہ اطلاع پارلیمانی اُمور کے وزیر جناب اننت کمار نے سی سی پی اے کی میٹنگ کے ا نعقاد کےبعد میڈیا نمائندگان سے گفتگو کے دوران  دی ہے۔

جناب اننت کمار نے مزید کہا ہے کہ آنے والے سرمائی اجلاس کے دوران 22 دنوں کی مدت میں 14 میٹنگیں منعقد ہوں گی۔

مذکورہ میٹنگ کی صدارت وزیر داخلہ جناب راج ناتھ سنگھ نے انجام دی تاکہ پارلیمنٹ کے آنے والے اجلاس کے دوران، قانونی اُمور سے متعلق ایجنڈے پر گفت وشنید کی جاسکے۔

میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے جناب اننت کمار نے کہا کہ یہ بات غیر معمولی نہیں ہے کہ پارلیمانی اجلاس کے نظام الاوقات اس انداز سے طے کئے گئے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات سے کوئی تصادم نہ ہو۔ مختلف حکومتوں نے ماضی میں متعدد مواقع پر  یہی طریقہ کار اپنایا ہے۔  جناب اننت کمار نے تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اہم بلوں کے سلسلے میں بارآور اور تعمیراتی مباحثے میں حصہ لیں اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی معمول کے مطابق  چلنے کو یقینی بنائیں۔

طلاق ثلاثہ اور قومی کمیشن برائے پسماندہ طبقات کے موضوع پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے جناب اننت کمار نے کہا کہ بھارت کے عوام کی یہ زبردست خواہش ہے کہ پارلیمنٹ کو مذکورہ دونوں اہم موضوعات پر قانون سازی کرنی چاہئے اور حکومت نے اس خواہش پر عمل کرنے کا عہد کررکھا ہے۔

آئندہ سرمائی اجلاس کے دوران تین آرڈی ننسوں کی جگہ تین بلوں پر غور وخوض ہوگا جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔   گڈس اینڈ سروسز ٹیکس (ریاستوں کو کی جانےو الی بھرپائی ) آرڈی ننس 2017 (جو 2ستمبر 2017 کو مشتہر کیا گیا تھا)

2۔   دیوالیہ پن اور دیوالیہ قرار دیے جانے سے متعلق ضابطہ (ترمیم) آرڈی ننس 2017

3۔   انڈین فاریسٹ (ترمیمی) آرڈی ننس 2017

پارلیمنٹ اس سرمائی اجلاس کے دوران، سپلیمنٹری مطالبات برائے گرانٹس پر بھی مباحثے کا اہتمام کریگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button