گھر سے بھاگ کر غیر مسلم نوجوان سے شادی کرنے والی لڑکی کی 10 ماہ بعد شوہر کے ہاتھوں درد ناک موت
نئی دہلی: جنوبی دہلی کے کالندی کنج علاقے میں بین المذاہب شادی کرنے والی 19 سالہ مسلم خاتون نیشا کی پراسرار موت کے معاملے میں پولیس نے اس کے 21 سالہ شوہر انکیت کو قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ واقعے نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے، جبکہ مقتولہ کے گھر والوں نے قتل، مسلسل گھریلو تشدد اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات عائد کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق نیشا اور انکیت نے تقریباً 10 ماہ قبل اپنے خاندانوں کی مخالفت کے باوجود شادی کی تھی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جمعرات کی رات انکیت شراب نوشی کے بعد گھر واپس آیا، جس پر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شوہر کو شبہ تھا کہ اس کی بیوی کا کسی دوسرے شخص سے تعلق ہے، جس کی وجہ سے تنازع شدت اختیار کر گیا۔
پولیس کے مطابق جمعہ کی علی الصبح انکیت نے مبینہ طور پر نیشا کا گلا دبا کر اور تکیے سے منہ بند کرکے اسے ہلاک کر دیا۔ الزام ہے کہ قتل کے بعد وہ تقریباً 12 گھنٹے تک لاش کے قریب ہی سوتا رہا۔ بیدار ہونے کے بعد اس نے واقعہ کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی اور لاش کو باتھ روم کی کھڑکی سے لٹکا کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ نیشا نے پھانسی لگا لی ہے۔
تاہم مقتولہ کے گھر والوں نے شوہر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے قتل کا الزام عائد کیا۔ نیشا کے بھائی نسیم کے مطابق 5 جون کو ایک مقامی شخص کے ذریعہ انہیں اس کی موت کی اطلاع ملی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب اہل خانہ گھر پہنچے تو کمرہ باہر سے بند تھا۔ تالا توڑ کر اندر داخل ہونے پر نیشا کی لاش کمرے میں پڑی ہوئی ملی جبکہ کولر اور پنکھا چل رہا تھا۔
گھر والوں کا کہنا ہے کہ نیشا تقریباً دو سال قبل گھر چھوڑ کر انکیت کے ساتھ چلی گئی تھی اور شادی کے بعد سے مسلسل جسمانی و ذہنی تشدد کا شکار تھی۔ خاندان نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ موت سے قبل اس کے ساتھ زیادتی اور اجتماعی عصمت دری کی گئی، تاہم ان الزامات کی سرکاری سطح پر ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ نیشا کی موت گلا دبانے اور منہ بند کئے جانے کے باعث ہوئی، جس کے بعد شوہر کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 103 (قتل) کے تحت مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کر لیا گیا۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ جولائی 2024 میں دونوں کے گھر سے فرار ہونے کے معاملے میں ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت نیشا نابالغ تھی۔ بعد ازاں مجسٹریٹ کے سامنے دیئے گئے بیان میں اس نے کہا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی تھی اور اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا تھا۔
فی الحال پولیس مختلف پہلوؤں سے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے، جبکہ مقتولہ کے گھر والے ملزم کے خلاف سخت کارروائی اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔



