نیشنل

ممتا بنرجی کے گھر تلاشی لینے پہنچ گئی سی آئی ڈی کی ٹیم 

نئی دہلی: منگل کے روز سی آئی ڈی کی ایک ٹیم ترنمول کانگریس کے دفتر اور پارٹی سربراہ کی کالی گھاٹ میں واقع رہائش گاہ پر پہنچی۔ یہ کارروائی مبینہ طور پر ارکانِ اسمبلی کے فرضی دستخطوں کے معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی۔

 

اس معاملے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ٹی ایم سی مختلف گروپس میں تقسیم ہو گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ریاستی تحقیقاتی ایجنسی کے افسران دوپہر کے وقت 30B ہریش چٹرجی اسٹریٹ میں واقع پارٹی دفتر پہنچے۔ ان کے ساتھ کالی گھاٹ پولیس اسٹیشن کے اہلکار اور خواتین پولیس کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

 

یہ کارروائی چند روز قبل جاری کیے گئے ان نوٹسوں کے بعد ہوئی جن میں سی آئی ڈی نے اسمبلی اسپیکر کو بھیجی گئی ایک تجویز سے متعلق دستاویزات اور معلومات طلب کی تھیں۔ یہ تجویز مبینہ طور پر بعض ٹی ایم سی ارکانِ اسمبلی کے جعلی دستخطوں کے ذریعے قائدِ حزبِ اختلاف کی منظوری حاصل کرنے سے متعلق تھی۔

 

اپنے جواب میں ابھیشیک بنرجی نے کہا تھا کہ ارکانِ اسمبلی کے دستخط پارٹی کے مرکزی دفتر 30B ہریش چٹرجی اسٹریٹ میں لیے گئے تھے۔ اسی بیان کی بنیاد پر ہم تحقیقات کے لیے یہاں آئے ہیں۔”تاہم تحقیقاتی ٹیم کو عمارت کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی،جس کے باعث دفتر کے منتظمین اور سی آئی ڈی اہلکاروں کے درمیان مختصر تلخ کلامی بھی ہوئی۔

 

جعلی دستخطوں کا یہ معاملہ ٹی ایم سی کی 28 سالہ تاریخ کے سب سے بڑے اندرونی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔یہ تنازع اس تجویز کے بعد شروع ہوا جو اسمبلی اسپیکر کو بھیجی گئی تھی جس میں سینئر ٹی ایم سی رکن اسمبلی کو قائدِ حزبِ اختلاف تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

 

الزام ہے کہ اس تجویز میں کئی ارکانِ اسمبلی کے دستخط جعلی تھے۔ ان الزامات کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی اور سی آئی ڈی نے تحقیقات شروع کر دیں۔اس تنازع کی جڑ اسمبلی انتخابات کے بعد قائدِ حزبِ اختلاف کے انتخاب پر ہونے والی کشمکش میں ہے۔

 

صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ٹی ایم سی کے 80 میں سے 58 ارکانِ اسمبلی نے پارٹی قیادت کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے پارٹی کے سرکاری امیدوار سوون دیب چٹرجی کے بجائے معطل شدہ رکن اسمبلی رتبرتا بنرجی کی حمایت کی۔

 

 

.

متعلقہ خبریں

Back to top button