انکم ٹیکس چوری کرنے والے 2225 افراد کے خلاف کی گئی کاروائی

نئی دہلی، 12 ؍جنوری( پی آئی بی)؍انکم ٹیکس محکمہ نے کالے دھن کے مسئلے سے نمٹنے کو بہت زیادہ ترجیح دی ہے۔ اس مقصد کے پیش نظر، محکمہ نے ٹیکس خاطیوں اور ٹیکس چوری کرنے والوں کے بڑی تعداد میں معاملات میں فوجداری قانونی چارہ جوئی کی کارروائیاں شروع کی ہیں۔ متعدد جرائم کیلئے مقدما تشروع کئے گئے ہیں، جن میں  جان بوجھ کر ٹیکس چوری کرنے کی کوشش کرنا، جان بوجھ کر کسی قسم کے ٹیکس کی ادائیگی نہ کرنا، جان بوجھ کر انکم ریٹرن نہ بھرنا، تصدیقی عمل میں غلط بیان دینا اور ٹیکس ڈیڈکٹیڈ، کلیکٹیڈ ایٹ سورس کو ڈپازٹ نہ کرنا یا ایسا کرنے میں بہت زیادہ تاخیر کرنا وغیرہ شامل ہے۔

مالی سال 18-2017(نومبر 2017کے اختتام تک) انکم ٹیکس محکمہ نے 2225 معاملات میں متعدد جرائم کیلئے قانونی چارہ جوئی کی شکایتیں درج کرائیں، جبکہ اس کے مقابلہ اس سال میں اسی مدت میں یہ معاملات 784 ہیں یعنی  اس میں 184فیصد  کا اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ مالی سال (نومبر 2017کے اختتام تک) یہ محکمہ کے ذریعہ یکجا کی گئی شکایات کی تعداد آنے والے اسی سال میں اسی مدت میں 575 معاملات کے مقابلہ 1052 ہیں یعنی 83فیصد کا اضافہ درج کیاگیا ہے۔ مقدمہ چلانے کیلئے مختلف نوعیت کے جرائم کو اس وقت یکجا کیا جاتا ہے، جب خطاکا ر اپنے جرم کا ارتکاب کر لیتا ہے اور مقررہ شرائط کے مطابق فیس کی ادائیگی کرتا ہے۔

ٹیکس کی چوری کرنے والوں کیخلاف محکمہ کی فیصلہ کن اور بھرپور کارروائی کی وجہ سے عدالتوں کے ذریعہ سزایاب ٹیکس ڈیفالٹروں کی تعداد میں بھی موجودہ مالی سال میں اضافہ ہوا ہے۔ متعدد جرائم کیلئے 48 لوگوں کو موجودہ مالی سال (نومبر 2017 کے افتتاح تک) میں سزاسنائی گئی، جبکہ آنے والے اسی سال کی اسی مدت میں 13 لوگوں کو سزا سنائی گئی یعنی اس سال 269 فیصد کا اضافہ ہواہے۔

یہاں وضاحت کے ساتھ چند معاملات سے روشناس کرایا جا رہا ہے:

  • دہرا دون کی ایک عدالت نے غیر اعلانیہ غیر ملکی بینک کھاتہ رکھنے پر ایک ڈیفالٹر کو قصوروار قرار دیا اور جان بوجھ کر ٹیکس چوری کی کوشش کرنے کی پاداش میں دو سال کی سزااور تصدیقی عمل  میں غلط بیان دینے کیلئے دو سال کی سزا سنائی ہے۔ اسی کے ساتھ بالترتیب اس کی ہر ایک خطا کی پاداش میں اس پر مالی جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
  • جالندھر کی سی جے ایم عدالت نے  ٹیکس کی چوری کرنے کے مقصد سے اپنے وکیل اور گواہ سے چشم پوشی کرتے ہوئے جھوٹے حلف نامے دے کر محکمہ کو دھوکہ دینے کی پاداش میں ایک کپڑا تاجر کو 2 سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے تاجر کو سزا دیتے ہوئے اس کے وکیل کو بھی فرضی حلف نامہ کیلئے ایک سال کی قید کی سزا سنائی ہے اور اسی کے ساتھ اس کے گواہ کو بھی ایک سال کی قید کی سزا سنائی ہے، کیونکہ اس نے اس سنگین جرم میں اس کی مدد کی تھی۔
  • بنگلورومیں بنیادی ڈھانچہ کے پروجیکٹوں میں مصروف عمل ایک کمپنی کا ایم ڈی 60لاکھ(مقررہ مدت میں) روپئے سے زائد ٹی ڈی ایس نہ جمع کرنے کا قصوروار پایاگیا،جس کی پاداش میں جرمانہ سمیت اسے تین مہینہ کی قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ۔ بعینہ، موہالی کا ایک باشندہ مقررہ مدت میں ٹی ڈی ایس نہ جمع کرنے کا قصوروار پایاگیا اور اس پر جرمانہ ائد کرنے سمیت اسے ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔
  • حیدرآباد کے ایک دیگر معاملہ میں بنیادی ڈھانچہ کی ایک کمپنی کی ڈائریکٹر کو چھ مہینے کی قید با مشقت سزا سنائی گئی اور اس پر جرمانہ لگایا گیا، کیونکہ اس نے جان بوجھ کر ٹیکس چوری کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسی کے ساتھ تصدیقی عمل میں میں غلط بیان دینے کی پاداش میں اسے چھ مہینے کی قید با مشقت کی سزا سنائی گئی اور اس پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
  • ارنا کولم میں معاشی جرائم سے متعلق عدالت نے ایک شخص کو 3 مہینے کی قید بامشقت کی سزا سنائی، کیونکہ اس نے ٹیکس ریکوری آفیسر کے ذریعہ ٹیکس ریکوری سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے باوجود تقریباً 76لاکھ روپئے کی ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کیلئے اس نے املاک فروخت کردی تھی۔
  • رپورٹ کے مطابق، آگرہ کے ایک دیگر معاملہ میں خصوصی سی جے ایم نے ایک ڈیفالٹر کو ایک سال اور چھ مہینے کی قید کی سزا سنائی، کیونکہ اس نے ٹیکس کی چوری کرنے کی جان بوجھ کر کوشش کی تھی اور اس نے تصدیقی عمل میں غلط بیان دیا تھا۔ ان دونوں معاملوں میں سزا کے ساتھ اس پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ۔

انکم ٹیکس  کا محکمہ ٹیکس چوری کرنے والوں کیخلاف اپنی یہ مہم آگے بھی جاری رکھے گا اور موجودہ مالی سال میں تمام بقیہ حصوں میں وہ ان کیخلاف کارروائی جاری رکھے گا۔