مولانہ آزاد یونیوسٹی میں ’’شخصیت کے ارتقاء ‘‘کے موضوع پرلکچر

’’ انسان جو بھی کام کرتا ہے وہ کسی نتیجے کی امید پر کرتا ہے اور اس کے کام کی نوعیت دنیا کو دیکھنے کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔ کوئی انسان اگر یہ نظریہ قائم کر لے کہ میں ظالم قوم کے درمیان ہوں ، تو اب اس کا ہر عمل دفاعی ہوگا، اقدامی کاموں کے بارے میں اس کے ذہن میں خیال ہی نہیں آئے گا۔ ان خیالات کا اظہار شعبہ اسلامک اسٹڈیزمولانہ آزاد یونیوسٹی حیدرآباد میں جناب عبد المجیب خان (چیر مین Tamkeen Solutions، حیدرآباد) نے اپنے خصوصی خطاب میں کیا۔

انہوں نے طلبہ سے ایک عملی مشق کرائی ، تاکہ وہ اپنے اندر کی چھپی ہوئی خوبیوں اور صلاحیتوں کا جائزہ لیں،صدر شعبہ ڈاکٹر محمد فہیم اختر نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ آج کے خطاب سے سوچنے کا ایک رخ ملا۔ رسول اللہ کی دوحدیثوں سے مہمان مقرر کے خیالات پر روشنی پڑتی ہے۔ اس کو خوشی حاصل ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے، جو اس کے لئے خیر اور بھلائی ہے، اگر مصیبت پہونچتی ہے ، صبر کرتا ہے، تو یہ حالت بھی اس کے لئے خیر ہے۔ لہٰذا ہمیں مایوسی سے بچنا چاہئے اور اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو کام میں لانا چاہئے۔

۔ پروگرام کا آغاز سید شارق علی (ایم فل) کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، امانت علی (ایم فل) نے کلمات تشکر ادا کئے۔ مہمان کے تعارف اور پروگرام کی نظامت کے فرائض عمر عابدین (ایم فل)نے انجام دئے۔