ایجوکیشن

نوجوانوں کو ذہنی غلامی سے آزاد ہوجانے وائس چانسلر کا مشورہ – اردو یونیورسٹی میں یوم آزادی تقریب

حیدرآباد، 15اگست (پریس نوٹ) زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ غلامی کی نوعیت تبدیل ہو رہی ہے۔ پہلے ملک غلام ہوا کرتے تھے، جنہیں افرادی قوت اور ہتھیاروں سے غلام بنایا جاتا تھا۔ پھر علم والوں نے لاعلم افراد کو غلام بنایا، اب لوگ ذہنی غلام ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہر کوئی اپنی خود پسندی کا غلام ہے۔ لوگوں کو اپنی خواہشات سے اوپر اٹھ کر دوسروں کی ضرورتوں کا خیال کرنا چاہیے۔ یہی انسانیت کا تقاضہ ہے۔ یہی قرآن کا پیام بھی ہے اور بحیثیت مسلمان ہم پر یہ لازم ہے۔ 

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے آج یونیورسٹی کیمپس میں ترنگا لہرانے کے بعد نظامت فاصلاتی تعلیم، آڈیٹوریم میں یوم آزادی پیام دیتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر اسلم پرویز نے خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی کی مدد کرتے وقت یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ وہ کس مذہب یا مسلک کا ہے۔ تبھی ہم اس ذہنی غلامی سے آزاد ہوپائیں گے۔ انہوں نے بطور خاص طلبہ کو بدعنوانیوںسے بچنے اور آسان پیسہ حاصل کرنے یعنی جہیز وغیرہ سے پرہیز کرنے کی صلاح دی اور اس سے دور رہنے کا عہد بھی لیا۔

ابتداءمیں جواہر لال نہرو کی 15 اگست 1947 کو کی گئی تقریر کی ویڈیو کے علاوہ ہندوستانی شہیدوں کے خطوط کی صدا بندی بھی پیش کی گئی۔ اسے مرکز مطالعاتِ اردو ثقافت (سی یو سی ایس) نے انسٹرکشنل میڈیا سنٹر کے تعاون سے تیار کیا تھا۔ ڈاکٹر مظفر حسین خان، اسسٹنٹ پروفیسر تعلیم و تربیت اور ڈاکٹر کرن سنگھ اتوال، اسسٹنٹ پروفیسر ہندی کی نگرانی میں طلبہ نے حب الوطنی پر مبنی نغمے پیش کیے۔ 

جناب انیس احسن اعظمی، مشیر اعلیٰ ، سی یو سی ایس نے کارروائی چلائی۔ پروگرام کے اختتام پر نغمے پیش کرنے والے طلبہ میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر اساتذہ، عہدیداروں اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button