جنرل نیوز

حقوق مصطفی محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم

 

 

از: مفتی محمد عبدالحمید قاسمی

کریم نگر ۔25 اکتوبر ( پریس ریلیز) اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے اس دارفانی میں پیدا کیا تو اس پر اس سماجی زندگی میں کچھ حقوق رکھ دیئے، تاکہ یہ بندہ ان حقوق کی پاسداری کر کے اسی کے ذریعے قرب باری تعالیٰ حاصل کرے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے احسانات تمام مخلوق و کائنات پر ہیں خصوصاً اس امت پر تو بے شمار و لاتعداد احسانات ہیں کہ زندگی بھر بھی شکر گزاری کی جائے تو کسی ایک احسان کا بھی شکریہ کما حقہ ادا نہ ہو اس لئے رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حقوق بھی تمام مخلوق پر ہیں خصوصاً اس امت پر اور مزید ہیں اس کا ہر امتی کو اقرار و اعتراف ہے مگر کبھی ہم نے سوچا کہ اس پیغمبر اعظم محسن اعظم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے کچھ حقوق بھی ہمارے ذمہ ہیں ہمیں اس کا کبھی خیال تک نہیں آتا 

 

پہلا حق :حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی فرضیت :- جب حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت آیات واضحہ اور معجزات ظاہرہ کے ذریعے ثابت ہوگئ تو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اور ان تمام احکام کی جن کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم حق تعالی شانہ کی طرف سے لیکر تشریف لائے ان سب کی تصدیق کرنا فرض اور لازم ہوگیا  

فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ النُّوۡرِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلۡنَا ؕ وَ اَللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ (پ 28 سورة التغابن 8

ترجمہ :-اس لئے اللہ پر ، اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے اُتارا ہے ایمان لے آؤ اور اللہ تمہاری ساری حرکتوں سے باخبر ہیں-

 

وَ مَنۡ لَّمۡ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ فَاِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ سَعِیۡرًا(پ26 سورة الفتح 13

ترجمہ :-اور جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لائے گا تو (یاد رکھے) کہ ہم نے ایمان نہ لانے والوں کے لئے دہکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے-

مذکورہ آیات سے معلوم ہوا حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ایمان لانا فرض اور واجب ہے ایمان باللہ بھی ایمان بالرسول کے بغیر معتبر نہیں اور جس شخص کا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پرایمان نہ ہو وہ کافر ہی ہے جس کے لئے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے 

 

ایمان نہ لانے پر وعید شدید :-حضرت ابو ہریرہ رض فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی جان ہےنہیں سنے گا کوئی اس امت میں سے مجھ کو(میری رسالت کی خبر کو)خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی ہو اور اس شریعت پر ایمان لائے بغیر مرجائے جس کے ساتھ مجھ کو مبعوث کیا گیا ہے وہ اہل دوزخ میں سے ہے – مذکورہ آیات اور حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ایمان لانا فرض اور واجب ہے ایمان باللہ بھی ایمان بالرسول کے بغیر معتبر نہیں اور جس شخص کا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پرایمان نہ ہو وہ کافر ہی ہے جس کے لئے جہنم کی وعید سنائی گئی ہے اور شریعت محمدیہ کو چھوڑ کر دوسرا مذہب ہرگز ہرگز کافی نہیں – 

 

دوسرا حق آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اطاعت کا واجب اور لازم ہونا ہے :- آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اللّٰہ کی طرف سے نبی اور رسول مان لینے اور آپ کی لائ ہوئ شریعت کے ہر ہر جز کو برحق اور منجانب اللّٰہ ہونے کی تصدیق کرنے کے بعد بدیہی طور پر اطاعت لازم ہوجاتی ہے چنانچہ اللّٰہ تعالی کا ارشاد ہے  

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَا تَوَلَّوۡا عَنۡہُ وَ اَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ پ9سورة الانفال 20

ترجمہ :-اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرو اور سننے کے باوجود اس سے منھ نہ موڑلو

 

دراصل آپ کی اطاعت اللّٰہ کی اطاعت ہے اور آپ کے ارشادات پر عمل کرنا قرآن پاک پر عمل کرنے کے مثل ہی ہے 

تیسرا حق آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنتوں کی اتباع ہے 

آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سنتوں مبارک عادتوں خصلتوں کی اتباع بھی امت پر ضروری ہے چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد ہے 

قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ(پ3سورةآل عمران31) 

 

رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہےتم میں کوئی کامل مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اس کی خواہش میری لائ ہوئی (شریعت اور احکام) کے تابع نہ ہوجائے – (مشکوة شریف ص301 

 

تیسرا حق آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی محبت کا لازم ہونا 

آپ کی محبت ہر امتی پر لازم ہے چنانچہ اللّٰہ تعالٰی کا ارشاد ہے 

قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡن

ترجمہ :- آپ کہہ دیجئے ، اگر تمہارے باپ دادا ، تمہاری اولاد ، تمہارے بھائی ، تمہاری بیویاں ، تمہارا خاندان ، مال و اسباب جن کو تم نے حاصل کیا ہے ، ( تمہاری )تجارت جس کے بیٹھ جانے کا تمہیں ڈر لگارہتا ہے اور وہ رہائش گاہیں جنھیں تم پسند کرتے ہو ، اگر تمہیں اللہ ، اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہوں تو انتظار کرو ، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ جاری کردیں اور اللہ نافرمانی کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتے۔

آیت پاک میں اس بات کی صاف دلیل ہے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی محبت کاملہ ہر امتی پر لازم ہےجو اولاد والدین، خاندان، رشتہ دار، مال و دولت، تجارت مکانات سب کی محبت پر غالب ہو کہ اگر کسی میں محبت کاملہ نہیں بلکہ دوسری چیزوں کی محبت غالب ہے تو اللّٰہ تعالی نے انھیں اپنے عذاب میں مبتلا کرنے کی خبر دی ہے اور ان کو گمراہ اور فاسق بتایا ہےحضرت انس رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اس کی اولاد اور اس کے والدین اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤ-

حدیث پاک سے بھی ثبوت ایمان کے لئے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کامل محبت کا فرض ہونا ظاہر ہے کو محبت کے درجات مختلف ہوسکتے ہیں جسکی وجہ سے ایمان کے درجات بھی مختلف اور متفاوت ہوسکتے ہیں لیکن مطلوب یہی ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پوری پوری محبت دل میں جاگزیں ہو-

 

چوتھا حق آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم ہے 

رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم بھی ہر امتی پر فرض ہے چنانچہ اللّٰہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًاo لِّتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُعَزِّرُوۡہُ وَ تُوَقِّرُوۡہُ ؕ وَ تُسَبِّحُوۡہُ بُکۡرَۃً وَّ اَصِیۡلًاo 

ترجمہ :-ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے تاکہ اے مسلمانو ! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو ، پیغمبر کی مدد کرو ، ان کی تعظیم کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کیا کرو – 

مذکورہ بالا آیت میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی انتہائی تعظیم و تکریم کا حکم ہے – 

 

پانچواں حق آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود و سلام پڑھا جائے 

حق تعالٰی شانہ کا ارشاد ہے 

اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا (پ22 سورة الاحزاب آیت56) 

ترجمہ :-بے شک اللہ اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے رہتے ہیں ، ( لہٰذا ) اے ایمان والو ! تم بھی پیغمبر پر ( درود و سلام ) بھیجا کرو ،

اس سے پہلی آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کچھ خصوصیات و امتیازات کا ذکر تھا، جن کے ضمن میں ازواج مطہرات کے پردہ کا حکم آیا تھا، اور آگے بھی کچھ احکام پردے کے آئیں گے، درمیان میں اس چیز کا حکم دیا گیا ہے جس کے لئے یہ سب خصوصیات و امتیازات رکھے گئے ہیں، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت شان کا اظہار اور آپ کی عظمت و محبت اور اطاعت کی ترغیب ہے۔

اصل مقصود و آیت کا مسلمانوں کو یہ حکم دینا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوٰة وسلام بھیجا کریں، مگر اس کی تعبیر وبیان میں اس طرح فرمایا کہ پہلے حق تعالیٰ نے خود اپنا اور اپنے فرشتوں کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے عمل صلوٰة کا ذکر فرمایا، اس کے بعد عام مومنین کو اس کا حکم دیا، جس میں آپ کے شرف اور عظمت کو اتنا بلند فرما دیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں جس کام کا حکم مسلمانوں کو دیا جاتا ہے وہ کام ایسا ہے کہ خود حق تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی وہ کام کرتے ہیں تو عام مومنین جن پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیشمار احسانات ہیں ان کو تو اس عمل کا بڑا اہتمام کرنا چاہئے۔ اور ایک فائدہ اس تعبیر میں یہ بھی ہے کہ اس سے درود وسلام بھیجنے والے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کام میں شریک فرما لیا جو کام حق تعالیٰ خود بھی کرتے ہیں اور اس کے فرشتے بھی۔امام بخاری نے ابوالعالیہ سے یہ نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صلوٰة سے مراد آپ کی تعظیم اور فرشتوں کے سامنے مدح وثناء ہے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی تعظیم دنیا میں تو یہ ہے کہ آپ کو بلند مرتبہ عطا فرمایا کہ اکثر مواقع اذان و اقامت وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ آپ کا ذکر شامل کردیا ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دین کو دنیا بھر میں پھیلا دیا، اور غالب کیا، اور آپ کی شریعت پر عمل قیامت تک جاری رکھا، اس کے ساتھ آپ کی شریعت کو محفوظ رکھنے کا ذمہ حق تعالیٰ نے لے لیا۔ اور آخرت میں آپ کی تعظیم یہ ہے کہ آپ کا مقام تمام خلائق سے بلند وبالا کیا، اور جس وقت کسی پیغمبر اور فرشتے کی شفاعت کی مجال نہ تھی اس حال میں آپ کو مقام شفاعت عطا فرمایا، جس کو مقام محمود کہا جاتا ہے۔(معارف القرآن پ22سورةالاحزاب آیت56) 

 

الغرض مسلمان کی شان اور کمال یہ ہے کہ وہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ محبت،اطاعت، تعظیم و تکریم بھی دل سے بجا لائے – دعا ہے کہ اللّٰہ تعالی امت کے ہر فرد کو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حقوق ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے -آمین یا رب العالمین

متعلقہ خبریں

Back to top button