این آر آئی

ریاض میں ہندستانی مسلمانوں کی تعلیمی کانفرنس میں علی گڑھ تحریک کے احیاء کا اعادہ

ریاض 12 ڈسمبر(پریس نوٹ) ہندستانی مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کو ایک نئی جہت فراہم کرنے کی غرض سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ” علی گڑھ تحریک اور نظریہ سرسید "کے عنوان سے ایک بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔کانفرنس کا انعقاد انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کی بیرونِ ملک شاخ نے کیا ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ ضمیر الدین شاہ، سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے مسلم تعلیم کو درپیش مسائل کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اندر کسی بھی شعبے میں اگر غیر معمولی لیاقت حاصل کرنے کا چلن ہوجائے تو کوئی چاہ کر بھی مذہبی اور لسانی بنیادوں پر ہمارے ساتھ امتیاز نہیں بر ت سکتا۔ اُنھوں نے خود اپنی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے چالیس سال کے فوجی کیریئر میں اُنھیں کبھی ایسا احساس نہیں ہوا کہ مذہبی بنیاد پر اُنھیں کبھی کسی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ مظفر نگر میں سرسید نیشنل اسکول کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے جنرل شاہ نے کہا کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے طول و عرض میں سرسید نیشنل اسکول کے قیام کے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ جنرل شاہ نے کہا کہ قوم کو اس سلسلے میں خود پہل کرتے ہوئے مظفر نگر کی طرزپر پورے ملک خصوصاً اُتر پردیش اور بہار میں سرسید نیشنل اسکول کا قیام کرنا چاہیئے۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سراج الدین قریشی نے کہا کہ جنرل ضمیر الدین شاہ کے سرسید نیشنل اسکول کے تجربے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے شمالی ہندستان کے اہم شہروں میں سرسید نیشنل اسکول کا قیام کر سرسید کے خوابوں کی تعبیر تلاش کی جاسکتی ہے۔ سراج الدین قریشی نے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹرکی جانب سے تمام تر تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ ایسی کسی بھی مہم کا حصہ بننا اُن کے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔
معروف تعلیم داں اوراین آر آئی تاجر ڈاکٹر ندیم ترین نے کہا کہ سرسید کے مشن کا احیاء وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر ترین نے کہا کہ ملک اس وقت جس ناذک دور سے گُزر رہا ہے اور مسلمانوں کو جس آزمائش کا سامنا ہے یہ ایک عارضی صورتحال ہے اور مسلمانوں کو اس سے گھبرانے کے بجائے ایک طویل مدتی تعلیمی منصوبہ تشکیل دینا چاہیے۔ عرب نیوزکے بیورو چیف جناب غضنفر علی خان نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تعلیمی معیار میں بہتری کی ضرورت پر زو رد یا۔
سماجی تنظیم بسواس کے جنرل سکر یٹری اختر الاسلام صدیقی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کشن گنج واقعی کیمپس کی مفلوک الحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو غیر ت دلائی اور سوال کیا کہ اگر حکومت اسکے کیمپس کے ساتھ سوتیلا برتاو کررہی ہے تو کیا ۲۵ کروڑ مسلمانوں کی معاشی حالت اتنی دگر گوں ہے کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نوذائیدہ کیمپس کو اپنے وسائل سے کھڑا نہیں کرسکتے ؟
اس سے قبل کانفرنس کے کنوینر مرشد کمال نے مقررین کا استقبا ل کرتے ہوئے کانفرنس کے مقاصد اور مستقبل کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا۔ مُرشد کمال نے ۶ دسمبر کو بابری مسجد کی شہادت کی برسی پر کانفرنس کے انعقاد پر معترضین کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ آج کی شام گریہ وزاری کرنے کے بجائے ملبے سے مستقبل تعمیر کرنے کے تجدید عہد کی شام ہے۔ مرشد کمال نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم ایک نئی علی گڑھ تحریک کی داغ بیل ڈال دیں۔ مرشد کمال نے جنرل ضمیر الدین شاہ، سراج الدین قریشی اور ندیم ترین کے مجوزہ مثلت کی تشکیل کا اپنا منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان ارباب ثلاثہ کو نئی علیگڑھ تحریک کی کمان دے دی جائے تو ان کی قیادت میں ملک کے طول وعرض میں جدید تعلیمی اداروں کا جال بچھا کر مسلم تعلیم میں ایک انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے ۔ کانفرنس کے آخر میں جنرل ضمیر الدین شاہ کی سوانح "سرکاری مسلمان” کی رونمائی اور بین الاقوامی رسم اجرا کی تقریب ادا کی گئی۔ کانفرنس کے انعقاد میں راشد حسن، نوشاد عالم ، محمد علی صدیقی، شبیرندوی ، ارشد خان ، ذاکر اعظمی وغیرہ نے اہم کردار ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button