ایجوکیشن

معیاری اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے کالجس کی خود مختاری ضروری – اردو یونیورسٹی میں یو جی سی کا ورکشاپ

حیدرآباد، 4 فروری (پریس نوٹ) یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) ملک میں معیاری اعلیٰ تعلیم کے حصول میں سہولت کی فراہمی اور تعلیم کے فروغ میں سرگرم رول ادا کر رہی ہے۔ یو جی سی تعلیمی اداروں کو خود مختاری عطا کرنے سے مربوط حقیقی مسائل پر غور کرتے ہوئے انہیں حل کرنا چاہتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر گوپال ریڈی، رکن، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن، نئی دہلی نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ڈی ڈی ای آڈیٹوریم میں یو جی سی- ساو¿تھ ایسٹرن ریجنل آفس، حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقدہ ورکشاپ ”کالجوں کی خودمختاری: فوائد اور پیشرفت“ میں کیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ ملک میں کالجس کی خودمختاری کا نظام متعارف ہوئے 30 سال ہوچکے ہیں۔ ملک میں تمام 900 سے زائد یونیورسٹیز ہیں جو خود مختار ہیں۔ لیکن 46000 کالجوں میں سے صرف 700 سے بھی کم کالج ہی خود مختار ہیں۔ وزیر برائے فروغ انسانی وسائل جناب پرکاش جاودیکر بھی اس میں جلد سے جلد مزید اضافے کے خواہاں ہیں۔ پروفیسر ریڈی نے یونیورسٹیوں، کالجس، اعلیٰ تعلیم کی ریاستی کونسلوں اور یو جی سی کو ایک ہی خاندان قرار دیا۔ انہوں نے کالجوں کی خود مختاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ خود مختار کالجوں کو تنخواہوں اور تعمیرات کے علاوہ 20 لاکھ روپئے دیئے جائیں گے تاکہ وہ اپنے مختلف امور جیسے امتحانات، نصاب کی تجدید وغیرہ بہ آسانی کرپائیں۔ اس کے علاوہ ایک اسکیم کے تحت کالجوں کو ریسرچ کے لیے 50 لاکھ روپئے دیئے جائیں گے۔ خود مختار کالجوں کی تنقیح 10 سال میں ایک مرتبہ کی جاتی ہے ۔ لیکن ایسے کالجوں کا جنہیں NAAC نے A+ گریڈ عطا کیا ہے، دورہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ 

قبل ازیں ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر، اردو یونیورسٹی نے خیر مقدم کیا۔ انہوں نے مانو کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ یونیورسٹی دینی مدارس کے فارغین کے لیے عصری تعلیم کے حصول میں ایک اہم کڑی ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے معیار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خود مختاری کے لیے معیار ایک اہم کسوٹی ہے۔ 

پروفیسر ٹی پاپی ریڈی، صدر نشین، تلنگانہ کونسل برائے اعلیٰ تعلیم (TSCHE) نے تعلیمی اداروں کے لیے عظیم تر خود مختاری کی وکالت کی۔

پروفیسر ایس رام چندرم، وائس چانسلر، عثمانیہ یونیورسٹی نے کالجوں کی خود مختاری کی حمایت کی اور اسے معیار کے حصول میں معاون قرار دیا۔ انہوں نے ملحقہ کالجوں کی کارکردگی کی نگرانی میں درپیش مسائل پر توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ کالجس کے خود مختار بن جانے سے یونیورسٹی اپنی تعلیمی سرگرمیوں پر بہتر توجہ دے سکے گی۔ 

پروفیسر وی وی رمنا ، نائب صدر نشین، تلنگانہ اسٹیٹ کونسل فار ہائر ایجوکیشن ، حیدرآباد نے تعلیمی خود مختاری کے مختلف پہلوﺅں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ اعلیٰ تعلیم کا شعبہ قیادت کے فقدان کا شکار ہے۔ پروفیسر کے بھاسکر، وائس چانسلر، ایم ایس یونیورسٹی، ترونویلی (تملناڈو) نے کہا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں کالجوں کے الحاق کا کوئی نظام نہیں۔ وہاں پر صرف خود مختار کالج ہوتے ہیں۔ کالجوں کو خود مختاری دینے سے قبل کئی ایک اُمور پر توجہ دینی ہوگی۔ 

پروفیسر این راجیندرن، وائس چانسلر الاگپا یونیورسٹی، تاملناڈو نے کہا کہ خود مختاری کے مناسب استعمال کی ضرورت ہے۔ اساتذہ کو اعلیٰ تعلیم کے رموز اور پیچیدگیوں سے واقف کروانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نصاب میں اختراعیت ہونی چاہیے۔ ریسرچ سے مارکٹ کو یا معاشرے کو فائدہ ہونا چاہیے۔ ورنہ تحقیق برائے تحقیق فنڈس کا زیاں ہے۔ ڈاکٹر این کویتا دریانی راﺅ، وائس چانسلر، جواہر لال نہرو آرکٹیکچر و فائن آرٹس یونیورسٹی (حیدرآباد) نے بھی خطاب کیا۔ ڈاکٹر جی سرینواس، جوائنٹ سکریٹری نے کارروائی چلائی اور کہا کہ ورکشاپ میں لکچرس کے علاوہ تبادلہ خیال کا بھی اہتمام کیا گیا ہے تاکہ خود مختاری کے مسائل سے آگاہی حاصل کی جاسکی اور اس کے بہتر نتائج حاصل ہوں۔ ڈاکٹر مدھوکر بی ایس، سابق مشیر NAAC نے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن ”خود مختار کالجوں کی تصدیق“ پیش کیا۔ بیشتر مہمان مقررین نے یونیورسٹی کے سرسبز اور ماحول دوست کیمپس کی زبردست ستائش کی اور اس کے وائس چانسلرکو جو نباتیات کے ماہر ہیں، مبارکباد دی۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button