جنرل نیوز

نرمل میں پلوامہ حملے کے خلاف دینی مدارس کا زبردست احتجاج

عادل آباد 19 فروری (اردو لیکس)مفتی احسان شاہ قاسمی کی اطلاع کے بموجب جموں وکشمیر کےپلوامہ میں سی آر پی ایف کے نوجوانوں کے قافلے پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کی مذمت اور شہید فوجیوں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرنے کے لیے صراط مستقیم سوسائٹی،قمر سوسائٹی،سہارا سوسائٹی،اور کلام گنم سوسائٹی کے زیراہتمام آج بتاریخ ١٩ فروری بروزِ منگل صبح ساڑھے دس بجے شہر نرمل کے دینی و عصری مدارس کے طلبہ کی عظیم الشان ،تاریخی احتجاجی ریالی منی ٹینک بنڈ سے نکالی گئیں جو جامع مسجد کامپلیکس ،اور جونئیر کالج کے سامنے سے گزرتے ہوئے کلکٹر آفس تک پہنچی ،جہاں کلکٹر کو اس سلسلے میں ایک یادداشت پیش کی گئی۔

اس عظیم الشان ریالی میں نرمل کے علماء عظام، حفاظ کرام وائمۂ مساجد اور معززین شہر کے علاوہ نرمل کے دینی مدارس: مدرسہ روضۃ العلوم مارکیٹ،مدرسہ دارالقرآن موتی نگر ،مدرسہ گلشنِ مدینہ صوفی نگر ، اور عصری اسکولز دکن اردو میڈیم،اور بلیو اسٹار انگلش میڈیم ہائی اسکول کے طلبہ ،اساتذہ وذمہ داران نے کثیر تعداد میں شرکت کی
متفقہ طور پر اس نازک وقت میں ملک کے ساتھ کھڑے ہونے کو اپنا فریضہ قرار دیا
اس موقع پر مولانا عبدالعلیم قاسمی،نائب قاضی نرمل نے ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:اس طرح کی بزدلانہ حرکت کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اور جو جوان اس حملے میں شہید ہوئے ہیں ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کے دکھ درد میں پورے طور پر شریک ہیں۔
اور حکومت سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گناہ گاروں کے خلاف فوراً ایکشن لے کر اینٹ کا جواب پتھر سے دیں تاکہ شہیدوں کی روح کو سکون ملے۔
جمعیۃ علماء ہند نرمل کے جنرل سیکریٹری مفتی عبد العلیم فیصل قاسمی نے کہا کہ اس ظالمانہ حرکت کی جانچ کرائی جائے کیونکہ ملک کا ہر دکھ درد ہمارا دکھ درد ہے، اس ملک کا ہر باشندہ ہمارا بھائی ہے، اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے کہ دوسرے لوگوں کو ایسی ناپاک کوشش کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑے اور اس میں جس ملک کا بھی ہاتھ ہو تو اسے بھی سبق سکھانے کے لئے ہر ممکن صورت اختیار کیا جائے۔
ریالی کے کنوینر مفتی احسان شاہ قاسمی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ”پلوامہ میں سی آر پی ایف کے جوانوں پر حملہ ملک کی سلامتی پر حملہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے” اسی کے ساتھ ہماراحکومتی اداروں سے پرزور مطالبہ ہے کہ وہ تیز رفتار تحقیقات کروائیں اس بارے میں کہ :”جموں وکشمیر میں ساری سیکورٹی فورسز اور ایجنسیوں کا خفیہ نظام موجود ہونے کے باوجود پلوامہ جیسے حساس علاقے میں خودکش بمبار،اتنی بھاری مقدار میں آرڈی ایکس کہاں سے اور کیسے لےکر آئے؟
"نیز اس وحشیانہ حملے کے اصل مجرمین کو بے نقاب کرکے جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور آئندہ ایسے حادثے نہ ہو اس کے لیے فوجیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور اس وحشیانہ حملے کے ردعمل میں بے قصور کشمیریوں کو ہراساں کرنا سراسر ناانصافی ہے ” خواجہ یوسف احمد معتمد مدرسہ روضۃ العلوم نے کہاکہ "اس دکھ کی گھڑی میں تمام علماء، ائمہ ، وذمہ داران دینی مدارس ،ملک کے ساتھ کھڑے ہیں اور وطن عزیز کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے فوجیوں کے اہل خانہ کےغم میں برابر کے شریک ہیں اور تمام زخمیوں کے لیے جلد ازجلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔”

اس موقع پر ریالی کے منتظمینمحمد عثمان صدر کلام گنم سوسائٹی شیخ شبیر،صدر قمر ایجوکیشنل سوسائٹی ،محمد ارشان ھمارا سہارا سوسائٹی کے علاوہ ذمہ داران مدارس:مولانا امتیاز خان مفتاحی ناظم جامعۃ المومنات نرمل ،مفتی حسان عبد الرشید خان ناظم دارالعلوم زکریا نرمل،مفتی ریاض الدین انصاری قاسمی ناظم جامعہ عائشہ للبنات ،مولانا مبین قاسمی امام وخطیب جامع مسجد نرمل ،مفتی عمران ،چاند پاشاہ ، مفتی عرفان اشاعتی، مولانا عمران خان، قاری سلیم احمد، حافظ مذکر علی ،خواجہ سر سمیت نوجوانوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button