ممتاز اسکالرو نقاد شمس الرحمن فاروقی کا اردو یونیورسٹی میں لکچر

شعبۂ اردومولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں جناب شمس الرحمن فاروقی نے ’’ فکشن کی تنقید‘‘ کے موضوع پر آج خصوصی لکچردیا جس میں انہوں نے فکشن کی تنقید کے طریق کار پر منظم اور مدلل انداز میں سیر حاصل گفتگو کی ۔ انہوں نے ناول کی تنقید کے ابتدائی انداز کو سرسری اور ناکافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان جب سے دنیا میں آیا ہے واقعہ یا قصہ کہہ رہا ہے تو کیا کہہ رہا ہے ؟کس کو سنارہا ہے ؟کن کن پہلوؤں پر روشنی ڈال رہا ہے ؟ ہم نے کیا اسے سنا ۔یہ چیز واضح نہیں ۔بس روایت چلی آرہی ہے ۔ واقعیت ہے کیا؟ پوری واقعیت کوئی دیکھ نہیں سکتا۔ ناول نگار یا افسانہ نگار نے اُسے جس طرح سے دیکھا ہے وہی دکھاتا ہے ۔ اسی لیے واقعیت یا حقیقت نگاری کے بجائے نقطۂ نظر اہم ہے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے جلسے کی صدارت کی اور اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ جناب شمس الرحمن فاروقی میری دعوت پر تشریف لائے مجھے اس چیز کا احساس ہے کہ ہمارے مرکز برائے اردو زبان ‘ادب و ثقافت کے وژن اور پروجیکٹ پر صلاح و مشورہ کے لیے فاروقی صاحب سے بہتر کوئی شخص نہیں ہوسکتا ۔ اس اجلاس میں شریک ہوکر مجھے فکشن اور تنقید کو سمجھنے کا موقع ملا ۔نیز اپنی اس شرمندگی کا احساس جاتا رہا جو بچپن میں والدہ سے چھپ کر ابن صفی کے جاسوسی ناول پڑھنے پر اب تک تھا کیونکہ جب فاروقی صاحب نے ابن صفی کے ناولوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے تو ضرور ان میں ادبیت ہوگی ۔
پروفیسر نسیم الدین فریس ڈین اسکول برائے السنہ‘ لسانیات اور ہندوستانیات نےبھی اظہار خیال کیا۔صدر شعبہ اردو پروفیسر ابوالکلام نے خیر مقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے جناب شمس الرحمن فاروقی کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا ۔ ۔پروگرام کا آغازمولوی شارق کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔جب کہ نظامت کے فرائض شعبے اردو کی استاد ڈاکٹربی بی رضا خاتون نے انجام دیے اور ہدیۂ تشکر شعبے کی استاد ڈاکٹر مسرت جہاں نے پیش کیا۔اس موقع پر جناب مصحف اقبال توصیفی ‘ پروفیسر رحمت اللہ ‘ پروفیسر کے۔ آر۔اقبال احمد پروفیسرمحمد ظفر الدین ‘ پروفیسر وہاب قیصر‘ ڈاکٹر انیس اعظمی‘ ڈاکٹر شمس الہدیٰ دریابادی ‘ ڈاکٹر شگفتہ شاہین ‘ ڈاکٹر آمنہ تحسین ‘ ڈاکٹر محمود کاظمی ‘ ڈاکٹر کہکشاں لطیف ‘ ڈاکٹر نوخیز ‘ ڈاکٹر فیروز عالم ‘ ڈاکٹر مصباح الانظر‘ جناب پی منور حسین‘ ڈاکٹر ارشاد احمد وغیرہ کے علاوہ بڑی تعداد میں تدریسی و غیر تدریسی عملہ ‘ ریسر چ ا سکالرس اور طلبا و طالبات نے شرکت کی ۔