کوئی بھی عالمی اجتماع جس میں ہند شامل نہیں ہے، محدود معنویت رکھتا ہے: نائب صدر

نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم حامد انصاری نے کہا ہے کہ کوئی بھی عالمی اجتماع جس میں ہند شامل نہیں ہے۔ محدود معنویت رکھتا ہے۔ 

 

نائب صدر نے کہا کہ دنیا کی آبادی کا چھٹا حصہ ہونے کے ناطے اور ہمارے عوام کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور امنگوں کے ناطے ہند کو دنیا کے لئے ایک زیادہ منصفانہ اور پائیدار مستقبل تیار کرنے میں بہت بڑا رول ادا کرنا ہے۔ بیسویں صدی کو زبردست ہلاکتوں اور واہموں کادور قرار دیتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ اگرچہ ملکوں کے درمیان ٹکراؤ کم ہوگیا ہے مگر پچھلی چوتھائی صدی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو عالمی اقتصادی نظام ایک رول مل گیا ہے لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج بھی پانچ مستقل ممبروں کی غلام بنی ہوئی ہے۔ نائب صدر نے کہا کہ ہندوستان کا مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے خطہ کے استحکام، سکیورٹی اور اقتصادی خوشحالی میں بڑا مفاد ہے اور وہ اپنا اسٹریٹجک اور اقتصادی اشتراک بڑھانے کو تیار ہے۔ بڑھتی ہوئی دہشت گردی سب کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ نائب صدر نے کہا کہ اگرچہ کچھ ممالک آج بھی دہشت گردی کو سرکاری پالیسی کے آلہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں لیکن عالمگیر دہشت گردی ایک سب سے بڑا عالمی چیلنج بن کر ابھری ہےجو تکثیر اور کھلے پن والے سماجوں کے لئے ایک خطرہ ہے، نائب صدر نے کہا کہ بین الاقوامی دہشت گردی کو منظم بین الاقوامی کارروائی سے ہی شکست دی جاسکتی ہے۔ 

 

نائب صدر تیونیشیا کے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ہندوستان اور دنیا کے موضوع پر اظہار خیال کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہند اور تیونیشیا کے تعلقات دوستانہ اور رنجشوں سے پاک رہے ہیں اور دونوں ملک مشترکہ اصولوں اور بہت سے معاملات میں یکساں طریقہ کار پر یقین رکھتے ہیں۔