ٹیکس ایڈمنسٹریٹوں سے وزیراعظم نریندر مودی کا خطاب

اعظم جناب نریندر مودی نے آج راجسو گیان سنگم میں ٹیکس ایڈمنسٹریٹروں سے خطاب کیا ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب دو علیحدہ علیحدہ ٹیکس بورڈ یعنی سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسس ( سی بی ڈی ٹی )اورسینٹرل بورڈ آف ایکسائز اینڈ کسٹمس ( سی بی ای سی ) بیک وقت ایک کانفرنس کے اہتمام میں شریک کارہیں ۔

وزیر اعظم نے گفت و شنید کی شروعات ٹیکس افسران سے تجاویز طلب کرنے کے ساتھ کی ۔ کچھ افسران نے گونا گوں موضوعات مثلاً ڈیجیٹلائزیشن ؍ رضا کارانہ طور پر ٹیکس کی ادائیگی ، ٹیکس دہندگان کو دی جانے والی سہولیات اور ٹیکس نفاذ کے دائرے کو وسیع کرنا ،اور ٹیکس ایمنسٹریٹروں کے لئے ڈیجیٹل اور طبیعاتی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے جیسے امور پر اپنی تجاویز پیش کیں ۔ 

وزیر اعظم نے راجسو گیان سنگم کے دوران افسران سے کہا کہ وہ کھل کر اپنے خیالات و نظریات کا اظہار کریں ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں شہریوں میں ایک طرف قانون کے تئیں احترام کا جذبہ ہونا چاہئیے اس اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی یقین ہونا چاہئیے کہ ٹیکس نا دہندگان کی پکڑ کے لئے قانون کے ہاتھ بہت لمبے ہیں وہیں انہیں یہ یقین بھی ہونا ضروری ہے کہ بے گناہ ہونے کی صورت میں انہیں ٹیکس ایڈمنسٹریٹروں سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہندوستان اپنی تاریخ کے انوکھے موڑ پر کھڑا ہے اور حکومت کے لئے لازم ہے کہ وہ عوام کی توقعات پرکھری اترے اور اس کے نتیجے میں عوام ملک کی مجموعی ترقی میں ہاتھ بٹا سکیں ۔ انہوں نے ٹیکس افسران پر اس بات کے لئے زور دیا کہ وہ اس انداز سے کام کریں کہ نظام کے تئیں عوام کا اعتماد بحال ہو سکے ۔ انہوں نے ’’ اسے ترک کریں ‘‘ مقولے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوام سے رضا کارانہ طور پر گیس سبسڈی چھوڑنے کی جو اپیل کی گئی تھی اس کاخاطر خواہ اثر ہوا ہے اوراسی طرح سے ٹیکس ایڈمنسٹریٹر بھی ٹیکس نفاذ کے دائرے کو عوام کے مابین خاطر خواہ طور پروسیع کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ اپنے موقف کو پورے مثبت اورمضبوط انداز میں عوام کے سامنے پیش کر سکیں ۔ 

وزیر اعظم نے اشار کیا کہ انگریزی لفظ آر اے پی آئی ڈی کی تفصیل اور تفسیر اس طرح کی جا سکتی ہے : ۔ آر برائے ریونیو یعنی مالیہ ، اے برائے اکاؤنٹ ایبی لٹی یعنی احتساب ، پی برائے پروبٹی یعنی دیانت داری ، آئی برائے انفارمیشن یعنی اطلاعات اور ڈی برائے ڈیجی ٹائزیشن یعنی اعداد بندی ۔ انہوں نے افسران کو اس گیان سنگم کو کرم سنگم بنانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے نتیجے میں جو نظریات اور خیا لات حاصل ہوں ، انہیں بنیادی سطح پر عملی شکل دی جا سکے ۔ 

وزیر خزانہ جناب ارون جیٹلی ، خزانہ کے وزیر مملکت جناب جینت سنہا ، وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری جناب نرپیندر مشرا ، مالیہ کے سیکریٹری جناب ہنس مکھ آدھیہ اور سی بی ڈی ٹی اور سی بی ای سی کے چیئر مین حضرات بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ 

۔