جنرل نیوز

گلبرگہ کے مشہور شاعرڈاکٹر رزاق اثر کو انجمن ترقی اردو کا خراج

 

گلبرگہ -18 جولائی ( پریس ریلیز) گلبرگہ کے ممتاز شاعر و ادیب ڈاکٹر رزاق اثر کا مختصر سی علالت کے بعد گزشتہ شام بعمر 84 برس انتقال ہوا اور تدفین ہفتہ کی صبح قدیم قبرستان ریلوے گیٹ شاہ آباد میں عمل میں آئی۔پسماندگان میں دو فرزندان اور تین دختران شامل ہیں۔ انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کے عہدیداروں ڈاکٹر وہاب عندلیب سابق صدرنشین کرناٹک اردواکیڈمی بنگلور،امجد جاوید صدر انجمن، ڈاکٹر ماجد داغی معتد انجمن، ڈاکٹر حشمت فاتحہ خوانی، شاہنواز شاہین نائب صدور،ولی احمد خازن، ڈاکٹر افتخارالدین اختر شریک معتمد، خواجہ پاشاہ انعامدار معتمد تنظیمی امور،پروفیسر محمد عبدالحمید اکبر صدر شعبہ اردو حضرت خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی،ڈاکٹر وحید انجم،ڈاکٹر رفیق رہبر، ڈاکٹر اسماء تبسم، محمد مجیب احمد، قاسم شاہ پوری، عبدالحمید، محمد صلاح الدین اراکین عاملہ نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کا شمار ریاست کرناٹک کے کہنہ مشق شعراء میں ہوتا تھا جن کی پانچ تصانیف اردو ادب کے سرمایہ میں قابلِ قدر اضافہ ہیں۔مرحوم نے شاعری کے علاوہ نثر نگاری اور بالخصوص طنز و مزاح نگاری میں اپنی علاحدہ شناخت قائم کی۔ان کی بیشتر کتابوں کی اجراء انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کے زیرِاہتمام انجام پائیں.۔وہ نعت شریف کے ممتاز شاعر حضرت صابر شاہ آبادی کے قریب ترین احباب میں شمار کئے جاتے تھے جنہوں نے علاقہ شاہ آباد میں صابر شاہ آبادی اور محب کوثر و قاسم شاہ پوری کے تعاون سے یہاں کئی یادگار ادبی نشستوں بالخصوص مشاعروں کا انعقاد عمل میں لایا۔ اس زمانے میں واڑی جنکشن سے ڈاکٹر ماجد داغی اور جناب سنا بھنڈاری بھی ان مجالس و مشاعروں میں سرگرم حصہ لیا کرتے تھے۔ابتدائی زمانے میں انہوں نے حمد، نعت شریف اور منقبت لکھیں اور بعد ازاں مختلف اصنافِ سخن میں اپنی شاعری کا لوہا منوایا، اردو ادب میں انہیں ایک اچھے شاعر و ادیب اور طنز و مزاح نگار کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button