ادویات اور کاسمیٹکس ترمیمی بل 2013 واپس لینے کابینہ کا فیصلہ

وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے ادویات اور کاسمیٹکس سے متعلق ترمیمی بل 2013 کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، جو راجیہ سبھا میں 29 اگست 2013 کو پیش کیا گیا تھا۔ اس بل کی جانچ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے کی تھی جس نے بل کے ضابطوں کو بدلنے کیلئے بہت سی سفارشات پیش کی تھیں۔
بھارت ادویات کی تیاری کرنے والا دنیا کے سب سے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے ۔یہاں ادویہ سازی کی مصنوعات کی سالانہ پیداوار دو لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی ہے۔ اس میں 55 فیصد سے زیادہ 200 سے زیادہ ملکوں کو برآمد کی جاتی ہیں جن میں ترقی پذیر ملک بھی شامل ہیں۔ اس لئے بھارت کا ادویہ سازی کا شعبہ بہت سے ملکوں میں کافی کم لاگت پر عوامی حفظان صحت میں اہم رول ادا کررہا ہے۔
کابینہ نے صحت عامہ کے بندوبست میں شعبے کے رول کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ یہ مناسب نہیں ہوگا کہ موجودہ قانون میں مزید تبدیلیاں کی جائیں، خاص طور پر بایولوجیکل، اسٹیم سیل اور سستی ادویات، طبی آلات وغیرہ کے شعبوں میں جو موجودہ قانون کے تحت مؤثر طور پر ریگولیٹ نہیں کئے جاسکتے۔
میک ان انڈیا کے مقصد کو  ذہن میں رکھتے ہوئے موجودہ قانون پر جامع نظر ثانی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا مقصد تجارت کرنے میں آسانی پیدا کرنااور اپنی مصنوعات کی کوالٹی اور مؤثر ہونے میں سہولت پیدا کی جاسکے۔