جنرل نیوز

مساجد شعائر اسلام ہیں، دینِ اسلام کی علامت ہے جسکا احترام اورمحافظت ہمارا دینی اور ملی فریضہ:مفتی ریحان قاسمی کا خطاب

مساجد شعائر اسلام ہیں؛ دینِ اسلام کی علامت ہے؛ جسکا احترام اورمحافظت ہمارا دینی اور ملی فریضہ ہے۔ مفتی ریحان قاسمی کا مسجد نور میں خطاب۔
کاماریڈی 10 ستمبر( پریس نوٹ) مساجد کی حفاظت اور آبادی اور اس کی تعمیر ترقی ہم سب کا دینی وملی فریضہ مسجد نور کاماریڈی میں جمعہ کے خطبہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے مفتی ریحان قاسمی نے ان خیالات کا اظہار کیا کہ زیرتعمیر مسجد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا یہی اسکی بقاء اور حفاظت نہیں ہے بلکہ ضروریات مسجد کی حفاظت کرنا اسکی ذمہ داریاں لینا یہ ہمارا اخلاقی دینی فریضہ ہے، اس لئے کہ یہ ہمارے دینی مراکز اور عبادت گاہیں ہیں اور جس قوم کی یہ عبادت گاہیں ہوں گی وہی قوم اسکی محافظ بنے گی، کوئی دوسری اسکی حفاظت نہیں کرے گا۔
تاریخ اسلام کو پڑھیں اور اللہ کے نبی صلعم کی تعلیمات کو دیکھیں، حد تو یہ ہیکہ کفار مکہ بھی کعبۃ اللہ کی خدمت کو سعادت مندی سمجھتے ہوئے پیش قدمی کرتے اور اسکی حفاظت کو قابل رشک تصور کرتے تھے، کعبہ اللہ میں بہت سارے بت تھے تو صحابہ نے دار ارقم کو اپنا دعوت و تبلیغ، تعلیم وتعلم اور نمازوں کا مرکز بنایا تھا، جب ہجرت کا حکم ہوا تو مدینہ منورہ میں پہونچنے سے پہلے اللہ کے نبی صلعم نے قباء مسجد کی سنگ بنیاد رکھی جب مدینہ منورہ پہونچے تو اللہ کے حبیب صلعم اور صحابہؓ نے اپنے گھر اہل و عیال کی فکر کے بجائے اول عمل وہ دینی مرکز کا قیام تھا یعنی تعمیر مسجد نبوی صلعم تھا، گھروں سے زیادہ مسجد کو اہم سمجھا، کیونکہ یہ مساجد ہماری پہچان ہے
پیارے نبی صلعم نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ تم کسی بستی یا علاقہ پر جاؤ اگر وہاں مسجد ہو تو اس پر چڑھائی کرنا قتل وقتال کرنا ناجائز ہے،
یہ ہمارے لئے اسوہ نمونہ ہے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں ارشاد فرمایا کہ مسجد میں رہنا اور جماعت کا انتظار کرنے پر فضیلت یہ اسی وجہ سے ہیکہ یہ شعائر اسلام میں سے ہے،
آج ہم نے عظمت مساجد کو نہیں سمجھا بے احترامی کے شکار ہوتے جارہے ہیں، ہم غفلت کے شکار ہوتے جا رہے ہیں، آج ہم نے مساجد کی فکر چھوڑ دی تو دیکھتے ہیں بہت سی مساجد یا بہت قدیم ہیں بوسیدہ اور غیرمستعمل ہوگئے ہیں جس پر فرقہ پرست کی ذہنیت کے حامل لوگ اس کو مسمار کررہے ہیں، یہ اسی وجہ سے کہ ہم نے اپنی مساجدکے تحفظ کے لئے کوشش نہیں کی ہے،
جیسا کہ آپ جانتے ہیں حکومت وقت نے دو قدیم اور قیمتی مساجد کو مسمار کیا ہے ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسی جگہ از سرنو جلد از جلد تعمیر کروائیں، اگر حکومت ہمیں اسکے متبادل پوری ریاست بھی دے دے تو ہمیں تسلیم نہیں کیونکہ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ جو زمین ایک مرتبہ اللہ کے لیے وقف کردی جاتی ہے تو سیدھے اللہ کی ملکیت میں چلی جاتی ہے اور اس میں کسی اور کا تصرف اور اختیار نہیں چلے گا، کسی اور کام کے لیے استعمال نہیں لا سکتے، یاد رکھو ایک مرتبہ اللہ کے نام پر کسی جگہ کو وقف کردیا جائے تو تحت الثری یعنی ساتوں زمین سے ساتوں آسمانوں تک وہ مسجد ہی ہوگی، مصالح مساجد و مقاصد مساجد کے خلاف استعمال کی بالکل گنجائش ہے ہی نہیں، اگرچہ وہ ناقابل استعمال جگہ ہو ویران ہو یہی ائمہ اربعہ اور دیگر جمہور فقہاء کا متفقہ فیصلہ ہے، مساجد کے تحفظ کے لئے ہر وقت ہم کوشاں رہتے تو یہ دن نہ آتا، یاد رکھئے اگر ہماری مساجد آباد ہیں تو ہمارے گھر اہل وعیال اور کاروبار آباد ہیں ورنہ ہم بھی ہمارے گھر اہل وعیال اور دیگر سب چیزیں غیر محفوظ ہوگی۔
نیز اپنے خطاب ول جوہر رکھتے ہوئے کہا کہ ہندوستان یہ سیکولر ملک ہے ہر اہل مذہب کو اسکے عقیدہ کے مطابق ہر طرح کی عبادت کی اجازت ہے؛ آئین ہند میں ہیکہ اگر کوئی اس میں چھیڑ چھاڑ کرے تو یہ قانوناً جرم ہے؛ لیکن آج ہماری مساجد کے ساتھ کیا کیا جارہا ہے، حکومت انکے خلاف ایکشن لیں،
نیز ہمیں اسکے دفاع میں جس کی جو طاقت ہے وہ اپنی صلاحیت کا استعمال کریں اہل قلم قلم کا اہل زبان زبان کا بھرپور استعمال کریں؛ یا کم از کم اتنا تو ہرکسی کے بس اور طاقت میں ہے کہ پنجوقتہ نمازوں سے مسلمان مسجد و کو آباد رکھیں جمعیۃ علماء ہند کاماریڈی اور اسکے ذمہ داران آبادی مساجد کی غرض سے مہم چلا رہی ہے اس میں خود بھی حصہ لیں اور دوسروں کو بھی متوجہ کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button