جنرل نیوز

کونسلنگ سیکھنا۔  وقت کی اہم ترین ضرورت

ڈاکٹر علیم خان فلکی، صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی، حیدرآباد۔9642571721

قسط۔1 : شادی سے پہلے کی کونسلنگ

سنا ہے مہنگی چیزیں پائدار ہوتی ہیں، لیکن شادیاں اِس دور میں اتنی مہنگی ہونے کے باوجود پائدار کیوں نہیں؟امریکہ اور یورپ میں طلاق اور علہدگی کا تناسب 50-70% تک ہے جبکہ ہمارے ہاں بمشکل 1.3% ہے۔ لیکن دوسری طرف ہمارے ہاں شادی کے بعد کشیدہ تعلقات یورپ سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ ہمارے ہاں ہر تیسری شادی جھگڑوں، مارپیٹ،طلاق کی دھمکیوں یا پھر پولیس اسٹیشن، کورٹ، قاضی یا پھر پہلوانوں اور عاملوں کے دفتروں تک پہنچنے لگی ہیں۔ اس کے وجوہات کئی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ہمارے ہاں کونسلنگ کا رواج نہیں۔ کہیں زمین خریدنے سے پہلے یا پیسہ کسی کاروبار میں انویسٹ کرنے سے پہلے ہم کئی ایکسپرٹس سے مشورہ کرتے ہیں لیکن زندگی جیسی اہم ترین چیزجو بدقسمتی سے صرف ایک بار ملتی ہے، وہ کسی کے حوالے کرنے سے پہلے کسی پروفیشنل سے مشورہ نہیں کرتے۔ اس مشورہ کو کونسلنگ کہتے ہیں۔ یہ دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک ہوتی ہے شادی سے پہلے جس کو Pre-Marriage کونسلنگ کہتے ہیں۔ دوسری Post-marriae کونسلنگ جو شادی کے بعد اگر کوئی اختلافات پیدا ہوجائیں تو کی جاتی ہے۔ کونسلنگ اتنی ہی اہم ہے جیسے کسی بیمارکا ڈاکٹر سے رجوع کرنا اہم ہے۔ اس مضمون میں ہم شادی سے پہلے کی کونسلنگ کی اہمیت اور طریقہ کار پر روشنی ڈالیں گے اور قسط۔2 میں شادی کے بعد کی کونسلنگ کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گے۔

شادی سے پہلے کونسلنگ کی مثال ہائی وے کے ان Road signs کی طرح ہے جوبتاتے ہیں کہ کہاں خطرناک موڑآرہا ہے اور کہاں اسپیڈ بریکر۔ جو ڈرائیور ان سائنوں کو نظرانداز کرتا ہے، سب کو معلوم ہے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ یہ کونسلنگ کرنے کے لئے کسی ڈگری یا ڈپلوما کی ضرورت نہیں۔ ہر وہ شخص جس میں بولنے کی اچھی صلاحیت ہو، نبی کریمؐ اور صحابہؓ  کی ازوواجی زندگی کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ نفسیات کا بھی مطالعہ رکھتا ہو، وہ یہ کام کرسکتا ہے۔ 60+ عمر کے لوگ اگر اس پر تھوڑی سی محنت کریں تو ان کے خاندان بلکہ محلّہ کے لوگوں کے ازدواجی مسائل بہت خوش اسلوبی سے سلجھائے جاسکتے ہیں۔ اس کے لئے اگر کوئی تیار ہو تو سوشیوریفارمس سوسائٹی ان کو ٹریننگ فراہم کرسکتی ہے۔ یہ کام امر بالمعروف نہی عن المنکر کے فرائض میں ایک اہم فریضہ ہے۔ نکاح بقول حدیث مبارک آدھے ایمان کی تکمیل ہے۔ اس نکاح کو بابرکت بنانا، گھریلو زندگی کو خوشحال بنانے میں مدد کرنا ایک عظیم خدمت ہے۔ فرمایا نبی کریمؐ نے ”الدین نصیحہ“، یعنی دین نصیحت کا نام ہے۔ کونسلنگ ایک بہترین نصیحت ہے۔ آپ کے ہوتے ہوئے آپ کے خاندان یا محلّہ کا کوئی کیس پولیس یا کورٹ یا قاضیوں یا پہلوانوں کے پاس جائے یہ آپ کے لئے باعثِ شرم ہے۔

کونسلر کی ذمہ داریاں:

یہ بات یاد رہے کہ مارکیٹ میں بے شمار کونسلر ہیں جو شادی سے پہلے یا شادی کے بعد کی کونسلنگ کے ماہر ہیں۔ خوب فیس بھی وصول کرتے ہیں۔ لیکن وہ اسلامی احکامات سے واقف نہیں ہوتے۔ اس وقت صحیح اسلامی کونسلنگ کرنے والے کونسلرز کی بہت کمی ہے۔ اگر قارئین کوشش کریں تو یہ صلاحیت پیدا کرنا ناممکن نہیں ہے۔

شادی سے پہلے لوگ بات چیت ضرور کرتے ہیں لیکن وہ باتیں طئے کرتے ہیں جن کی دنیا والوں کی نظر میں بہت اہمیت ہے لیکن شریعت کی نظر میں اہم نہیں ہیں۔ جیسے مختلف رسومات، مہمانوں کی تعداد، ضیافت، جہیز اور ہُنڈے یا جوڑے کی رقم وغیرہ۔ وہ باتیں جو شادی کے بعد بستر کا کانٹا بن جاتی ہیں ان چیزوں پرلوگ بات چیت کے وقت طئے ہی نہیں کرتے۔  اور ایک دوسرے کے کامن سینس پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یا تو مروّت کی وجہ سے نہیں پوچھتے، یا جھجھک Hestitation یا پھر خوش فہمیاں ہوتی ہیں کہ سامنے والے سمجھدار لگ رہے ہیں، ہر چیز کا خیال رکھیں گے، لیکن بعد میں جب توقعات پوری نہیں ہوتیں تو تعلقات میں ناگواریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ کونسلر کا کام یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں کو ایک دوسرے کاآئینہ بنادے، یعنی دونوں کسی بھی قسم کی مروّت یا جھجھک کے بغیر دل کی بات کھل کر ایک دوسرے کے سامنے رکھ دیں۔

وہ سوالات جو لڑکا لڑکی اور دونوں کے خاندانوں کے ساتھ کونسلنگ میں پوچھے جانے ضروری ہیں:

۱۔ مسلک یا مذہب، پردہ، داڑھی وغیرہ: اچھی طرح اطمینان کرلیں کہ دونوں کے نزدیک مسلک یا مذہب کے معاملے میں کوئی سختی یا شدّت پسندی تو  نہیں پائی جاتی۔ اگر ایک بھی پارٹی میں عقائد یا عبادات وغیرہ کے معاملے میں Sensitivity پائی جائے تو کونسلر کو چاہئے کہ دونوں پارٹیوں کو کھل کر اپنا اپنا موقف بیان کرنے دے۔ ہوسکتا ہے ایک پارٹی فاتحہ، پیری مریدی کی قائل ہو اور دوسری بالکل نہیں۔ ایک پارٹی شادی کے بعد لڑکی کو پردہ کروانے کی قائل ہو، دوسری پارٹی پردے کی قائل نہیں، ایسے مسائل ہرعلاقے میں الگ الگ ہیں۔ان بنیادوں پر ہم نے کئی خاندانوں میں سخت اختلافات پیدا ہوتے دیکھے ہیں۔ کونسلر کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ صحیح یا غلط کا درس دینا شروع کردے۔ وہ صرف یہ کام کرے کہ دونوں فریقوں کو کسی ایک کے موقف پر اتفاق کرنے پر زور دے۔

۲۔ بیماریاں، غلط عادتیں: اکثر لوگ لڑکا یا لڑکی میں کوئی بیماری ہو، ذہنی طور پر کوئی مسئلہ ہو تو چھپاتے ہیں اور یہی توقع کرتے ہیں کہ شادی کے بعد سب کچھ ٹھیک ہوجائیگا۔ کئی لوگ بیٹا یابیٹی کی غلط عادتوں، غلط صحبتوں کو چھپاتے ہیں جس کی وجہ سے شادی کے بعد برے نتائج سامنے آتے ہیں۔

۳۔ اگر لڑکا یا لڑکی طلاق یافتہ ہوں تو طلاق کس وجہ سے ہوا، وہ سچ سچ بیان کرنا ضروری ہے۔ اس میں غلط بیانی ہو تو یہ دھوکہ دہی ہے۔ کونسلر کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی اطمینان حاصل کرلے کہ جو کچھ کہا گیا وہ سچ ہے، کیونکہ طلاق کے قصوں میں سچ بہت کم لوگ بولتے ہیں۔

۴۔ لڑکا اگر NRI ہو تو شادی کے بعد لڑکی کہاں رہے گی، یہ پہلے سے ہی طئے ہوجائے تو بعد میں مسائل پیدا نہیں ہوتے، ورنہ اس بنیاد پر کئی جھگڑے ہوتے ہیں۔

۵۔ وراثت: اس چیز کو لوگ معمولی سمجھتے ہیں۔ اسلام میں وراثت کی تقسیم کے احکام بہت سخت ہیں۔ حدیث قدسی میں ہے کہ جس آدمی نے وراثت کی صحیح تقسیم نہیں کی، اللہ تعالیٰ قیامت میں خود اس کے خلاف مقدمہ لڑے گا۔ یہ معاملہ قیامت میں سب سے پہلے پوچھے جانے والے معاملات میں سے ایک ہے۔ کونسلر یہ پوچھے کہ جو کچھ شادی پر خرچ کیا جائے گا، کہیں بعد میں وہ خرچ لڑکی کی وراثت میں سے تو کم نہیں کردیا جائیگا۔ لوگ سینکڑوں کی کھانے کی دعوت پر یا جہیز پر محض اپنی شان کی خاطر لٹا دیتے ہیں، اس میں لڑکی کی اپنی خواہش نہیں ہوتی۔ بعد میں لڑکی کے بھائی لڑکی کی وراثت میں ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ لڑکی سے پوچھا جائے کہ کیا وہ اس بات پر تیار ہے کہ جو کچھ اس کی شادی پر خرچ ہوگا وہ اس کی وراثت کے حق میں کاٹا جائیگا۔ اگر لڑکی راضی نہ ہو تو شادی سنّت کے مطابق سیدھی سادھی کی جائے، ورنہ لڑکی کے بھائیوں کے ساتھ بہت سخت ناانصافی ہوگی۔ یہ بھائیوں پر ظلم ہے کہ شادی پر لاکھوں لٹانے کے بعد پھر بہن وراثت میں سے بھی حصہ مانگنے آتی ہے۔

۶۔ جہیز اور کھانے: اکثر لڑکے والے شان سے کہتے ہیں کہ ہم نے کچھ نہیں مانگا، لڑکی والوں نے زبردستی دیا، یا خوشی سے دیا۔ یہ ایک جھوٹ ہے۔ لڑکے والوں کا یہ کہنا ایک سوشیل بلیک میل ہے۔ کونسلر یہ راست پوچھے کہ کیا واقعی وہ جہیز لینے کو ناجائز سمجھتے ہیں، یا ایکٹنگ کررہے ہیں۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائیگا، دل میں چھپی ہوئی بیماری سامنے آجائیگی۔

۷۔کفو یا کفاء ت   Equality, Compatibility:  فی زمانہ اس سوال کی اہمیت بالکل ختم کردی گئی، حالانکہ اسلام میں لڑکی اور لڑکے میں کفاء ت دیکھنا لازمی ہے۔ اس سلسلے میں ہماری کتاب ”مرد بھی بکتے ہیں۔۔ جہیز کے لئے“ میں ایک مکمل باب موجود ہے، آپ چاہیں تو الگ سے منگواسکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ کونسلر کی ذمہ داری ہے کہ یہ دیکھے کہ دونوں کلمہ، شریعت کی پابندی، اخلاق و کردار، قبیلے یا خاندان،ایجوکیشن،  زبان، کلچر، رکھ رکھاو میں ایک دوسرے کے کفو ہیں یا نہیں۔ ورنہ دونوں میں جو ذہنی طور پر فاصلے پیدا ہوں گے، ایک دوسرے پر برتری یا کمتری کا احساس پیدا ہوگا، اس سے ازدواجی زندگی میں بہت ساری ناگواریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ کئی فقہا کے نزدیک کلمہ کے بعد مال میں کفو دیکھا جائے۔ اس دور میں اس کا Application جہیز پر ہوتا ہے۔ اگر لڑکے والے جہیز اور کھانا مانگ رہے ہیں، یا انہیں سماجی مجبوری کی وجہ سے دینا پڑرہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ مال میں لڑکی کے کفو نہیں ہے۔ یہ قرآن کے اس حکم کے خلاف ہیں کہ ”الرجال قوامون علی النساء۔۔۔ بما انفقوا من اموالھم“ سورہ نساء آیت 34۔ یعنی مرد عورت پر فضیلت اس لئے رکھتا ہے کہ وہ اپنا مال عورتوں پر خرچ کرتا ہے۔ لیکن اگر پلنگ، فرنیچر، دعوت، فلیٹ، کار، بائیک وغیرہ کے لئے عورت کو خرچ کرنا پڑے تو وہ عورت کا کفو نہیں ہوسکتا۔  جہیز نے اس دور میں کفو کے احکامات کوتباہ کردیا ہے۔ لڑکیوں کی مجبوری یہ ہو تی ہے کہ وہ اپنے کفو سے شادی نہیں کرسکتیں کیونکہ عام طور پر اس کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ لڑکیوں کو اسی کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے جس کی قیمت لڑکیوں کے والد کے لئے ادا کرنا ممکن ہو۔ کفو کی اہمیت واضح کرنے کے لئے کئی احادیث موجود ہیں۔ یہاں حضرت عمرؓ کا ایک قول ہی کافی ہے کہ ”میں کسی بھی شریف خاندان کی لڑکی کا نکاح کسی بھی غیرکفو میں کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دوں گا“۔ اس جہیز کی لعنت نے تو لڑکیوں کو غیرمسلموں سے بھی شادی کے لئے مجبور کردیا ہے۔

وہ سوالات جو لڑکا لڑکی سے راست کونسلنگ میں پوچھے جانے ضروری ہیں:

۱۔ کونسلر دونوں سے یہ یقین حاصل کرے کہ دونوں شادی واقعی اپنی خوشی سے کررہے ہیں، کسی کی کوئی زبردستی یا مجبوری نہیں ہے۔ اس دور میں سب سے زیادہ جھگڑے انہی بنیادوں پر ہیں کہ لڑکا یا لڑکی کسی اور سے محبت میں گرفتار ہیں لیکن ماں باپ اس کے مخالف ہیں،لڑکا یا لڑکی مجبوری میں سمجھوتہ کرلیتے ہیں، لیکن شادی کی رات سے ہی مسائل شروع ہوجاتے ہیں۔

۲۔ جہیز: لڑکے کے والدین اپنے ارمان بلکہ بھیک وصول کرنے کی آرزو میں لڑکے کی خواہش کا بہانہ کرتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کہ لڑکے کی خواہش ہے کہ اسے بائیک، کار، وغیرہ وغیرہ دیئے جائیں۔ جو ناجائز ہیں۔ کونسلر راست پوچھے کہ کیا واقعی وہ جہیز لینا چاہتا ہے؟ کیونکہ جتنے نوجوان ہیں ان کی اکثریت جہیز اور کھانے لینے کی مخالف ہے، لیکن ماں باپ کی ضد کی وجہ سے مجبور ہیں، انہیں بالکل پتہ نہیں کہ جہاں ماں باپ کی فرمانبرداری ان پر فرض ہے، جہیز جیسے معاملات میں جہاں ماں باپ انہیں شرک یا منکر پر مجبور کررہے ہیں، وہاں ماں باپ کی نافرمانی بھی ان پر فرض ہے۔

۳۔ کونسلر لڑکی سے پوچھ لے کہ جو جہیز دیا جارہا ہے یا منگنی اور شادی میں کھانا کھلایا جارہا ہے، کیا وہ واقعی خوشی سے دیا جارہا ہے؟ کیونکہ علما کی اکثریت اس ناجائز کو اس بنیاد پر جائز کرتی ہے کہ اگر خوشی سے خرچ کیا جائے تو جائز ہے۔ لڑکی بتادے گی کہ خوشی سے دیا جارہا ہے یا گھر فروخت کرکے یا سود پر پیسہ لا کر، یا بھائیوں کو کنگال کرکے مجبوری سے دیا جارہا ہے۔ کونسلر دونوں کو سمجھائے کہ اگر نکاح جیسے پاک رشتے کی بنیاد ایک حرام کام پر کھڑی ہو، اور ایسے نکاح سے جو نسل پیدا ہو، اس کا انجام کیا ہوگا، اس سے معاشرے کوکتنا نقصان پہنچے گا۔دونوں میں اس لعنت کے خلاف لڑنے کی ہمت پیدا کرنا کونسلر کی ذمہ داری ہے۔ ورنہ ایسے کونسلر دین کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

۴۔ سابقہ محبتیں یا Affairs: یا تو لڑکا لڑکی صاف صاف بتادیں کہ اگر ماضی میں ان کا نام کسی سے جڑا تھا۔ یا پھر دونوں یہ پہلے ہی دن عہد کرلیں کہ وہ ایک دوسرے کو سچے دل سے چاہیں گے لیکن ماضی کی کوئی بات نہیں چھیڑیں گے۔ اس دور میں ہر لڑکے اور لڑکی کے فون میں غیرمحرم لڑکے یا لڑکیوں کے نمبر ضرور ہوتے ہیں جن سے وہ ہائے ہیلو یا اس سے بھی آگے بہت کچھ کرتے ہیں۔ لڑکوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جن لڑکیوں سے دوستی کو وہ فخر سے اپنے دوستوں میں بیان کرتے پھرتے ہیں، وہ لڑکیاں بہرحال کسی نہ کسی کی تو بیویاں بنتی ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ان کی عاشقی میں گرفتارلڑکیاں تو دوسروں کی بیویاں بنیں اور ان کے نصیب میں بس ایسی حور آئے جو مکمل پاک، کنواری اور اللہ سے ڈرنے والی ہو، یہ ممکن نہیں۔

۵۔ لڑکی اگر نوکری کرنا چاہے تو لڑکے کا کیا خیال ہے، یہ پہلے ہی طئے ہونا چاہئے۔ یہ بھی طئے ہونا لازمی ہے کہ تنخواہ پر کس کا حق ہوگا؟

۶۔ لڑکی جوائنٹ فیملی سسٹم میں خوشی سے رہنے کے لئے تیار ہے  یا محض مجبوری کی وجہ سے؟ (جوائنٹ فیملی کیوں اسلام میں ناپسندیدہ ہے،  اس کے نقصانات کیا کیا ہے، ایسی فیملی میں کس کس طرح کی مشکلات پیدا ہوتی ہیں، یہ اگلی قسط میں ملاحظہ فرمایئے)۔

۷۔ شادی کے بعد لڑکی کو شوہر کی جانب سے نان نفقہ پاکٹ منی کے طور پر ڈائرکٹ ملے گا، یا شوہر یہ کہے گا کہ جو بھی چاہئے میری امی سے لے لو؟

اہم TIPS:

۱۔ عورت کی عزت کرنی لازمی ہے: ہماری نانیوں اور دادیوں کا زمانہ چلا گیا جب نہ عورت کی ایجوکیشن اہم تھی، نہ نوکری اور نہ ان کاکوئی آئیڈیل ہوا کرتا تھا۔ آئیدیل وہی تھا جو ان کے بڑے منتخب کرلیتے۔اسی آدمی کو وہ اپنا سرتاج بنالیتے۔ جہیز یا شاندار دعوتوں کی لعنت دور دور تک نہیں تھی۔ آج   لوگ  یہ سمجھتے ہیں کہ جتنا چاہے جہیز وصول کرلو، لڑکی آکر نوکرانی کی طرح سب کی خدمت کرے، یہ ناممکن ہے۔ اب لڑکیاں، لڑکوں سے زیادہ ایجوکیٹیڈ ہیں، کمانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، بلکہ ان کو کمانے کے لئے تیار رہنے کے لئے  ہی پڑھایا جاتا ہے۔ اگران کا باپ ان کی شادی پر خرچ کرتا ہے تو اس لئے نہیں کہ لڑکی آکر سسرال کی نوکرانی بن کر رہے۔ شادی پر لاکھوں روپیہ خرچ کرنے والا باپ اپنی بیٹی کے لئے ایک مالک نہیں بلکہ ایک چوکیدار خرید رہا ہے۔اگر آپ ایک واقعی سمجھدار اور خدمت گزار بیوی یا بہو چاہتے ہیں تو یہ جہیز جیسی حرام چیز سے سختی سے پہلے انکار کیجئے۔

۲۔ اکثر لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ جہیز کے بغیر شادی کرنے والی لڑکیاں جھگڑالو ہوتی ہیں، احسان نہیں مانتیں۔ یہ غلط ہے۔ آپ جو لوگوں کے سامنے کہتے ہیں کہ ہم  بغیر جہیز کے شادی کئے، غریب لڑکی کو دیکھ کرکئے، دونوں طرف سے کرکے لائے، یہ جملے احسان جتانے والے ہیں، جس سے ہر لڑکی کی انا زخمی ہوتی ہے۔ احسان جتانا ایک کم ظرفی کی علامت ہے، اس لئے ایسی لڑکیاں ہمیشہ کم ظرفی کاجواب کم ظرفی سے دیتی ہیں۔

۳۔ لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم کی لعنت نے انہیں اس اسٹیج پر لا کھڑا کیا ہے کہ ان کی عمریں شادی کی عمر سے بڑھ جاتی ہیں، شریعت بالغ ہونے کے بعد پہلے نکاح کا حکم دیتی ہے، بعد میں کیریئر۔ جو لوگ اس حکم کو توڑتے ہیں انہیں قدرت کی مار پڑتی ہے اور پھر شادیاں مشکل ہوجاتی ہیں۔

۴۔ کچھ لوگوں کو V.V.Fair یعنی بہت گوری بہو کی تلاش ہوتی ہے۔ اس بے وقوفی کی وجہ سے بھی کئی نقصانات ہوتے ہیں۔ اچھا کردار جتنا گوری لڑکیوں میں ہوسکتا ہے اتنا ہی سانولی یا کالی لڑکیوں میں ہوسکتا ہے۔ جتنا امیر لڑکیوں میں ہوسکتا ہے اتنا ہی غریب لڑکیوں میں ہوتا ہے۔

۵۔ لڑکی اور لڑکے کی عمر کے فرق کے بارے میں اکثر لوگ اکثر غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں۔ کونسلنگ کے نقطہ ئ  نظر سے اگر فرق دس سال کا ہو تو 100% خوشحال رومانٹک لائف کا زیادہ امکان ہے۔لوگ چاہتے ہیں کہ فرق کم سے کم ہو۔ ایسی صورت میں  لڑکیاں ایک دو بچے ہونے کے بعد شوہر کی آپا نظر آنے لگتی ہیں، اس کے بعد شوہر،  بیوی میں رومانس نہ پاکر اِدھر اُدھر جھانکنے لگتے ہیں۔

اور کئی اہم Tips ہیں لیکن مضمون طویل نہیں کیا جاسکتا۔ بہرحال، شادی سے پہلے کونسلنگ اچھی زندگی کی شروعات کے لئے بہت اہم رول ادا کرتی ہے۔جتنے لوگ اِسے سیکھنے کی کوشش کرینگے معاشرے کو اتنا زیادہ فائدہ پہنچے گا۔ سوشیوریفارمس سوسائٹی اس سلسلے میں بھرپور مدد کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button