ایجوکیشن

اردو یونیورسٹی میں نئی تعلیمی پالیسی کے مطابق ابتداءتا ریسرچ مادری زبان میں تعلیم دستیاب نئے طلبہ کے شمولیتی پروگرام ”دیکشارمبھ“ کا افتتاح۔ پروفیسر رحمت اللہ، پروفیسر محمود صدیقی و دیگر کے خطاب

حیدرآباد، 9 نومبر (پریس نوٹ) نئی تعلیمی پالیسی 2020 میں ابتدائی تعلیم کی مادری میں زبان میں فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ اردو یونیورسٹی بھی طلبہ کو ابتدائی اسکولی تعلیم سے لے کر ریسرچ تک مادری زبان میں فراہم کرتی ہے۔ تعلیمی پالیسی میں مہارتوں کے حصول پر توجہ دلائی گئی ہے۔ یونیورسٹی میں اس سلسلہ میں آئی ٹی آئی، پالی ٹیکنیک اور بی ٹیک جیسے کورسز دستیاب ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، وائس چانسلر انچارج نے آج نئے طلبہ کے شمولیتی پرگرام ”دیکشارمبھ“ کے افتتاحی اجلاس میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آن لائن منعقدہ اس پروگرام سے پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار انچارج نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر رحمت اللہ نے کہا کہ نئی پالیسی میں دیگر ممالک میں شاخیں قائم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں یونیورسٹی بھی حکومت ہند کے تعاون سے ہر ممکنہ کوششیں کرے گی۔ انہوں نے ابتداءمیں پڑھی گئی قرآن کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں امانت داری کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں جہاں یونیورسٹی اپنی امانت یعنی بہتر تعلیم کی فراہمی کی پابند ہے وہیں طلبہ کو اپنی امانت کا پاس و لحاظ رکھنا یعنی تعلیم کے حصول میں ایماندارانہ کوشش کرنا چاہئیے۔ یعنی اپنے کام میں ایمانداری نہ صرف دنیاوی تقاضہ ہے بلکہ دینی تقاضہ بھی ہے۔ پروفیسر رحمت اللہ نے آخر میں مولانا آزادکے اقدار پر توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تاحیات ہندو مسلم اتحاد کے لیے کوششیں کیں۔ اس لیے ہم بھی آپسی بھائی چارہ کا دامن نہ چھوڑیں۔ یونیورسٹی کی دیکشا یا عزم ہے تعلیم کی فراہمی، کردار سازی اور طلبہ کی رہنمائی اور اس سلسلہ میں یونیورسٹی کی کاوشیں جاری رہیں گی۔ انہوں نے طلبہ کو ڈسپلن پر سختی سے عمل کرنے پر زور دیا۔ پُر امن فضا کو برقرار ررکھنے کے لیے ڈسپلن شکنی کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
پروفیسر صدیقی محمد محمود نے یونیورسٹی کے متعلق معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا آزاد یونیورسٹی صرف فاصلاتی کورسز ہی نہیں ریگولر تعلیم بھی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے دائرہ کار میں اردو زبان و ادب کا فروغ، اردو ذریعہ سے ووکیشنل، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم فراہم کرنا، کیمپس موڈ اور ڈسٹنس موڈ کے کورسز چلانا اور خواتین کو تعلیم فراہم کرتے ہوئے بااختیار بنانا شامل ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ جب یہاں آچکے ہیں تو اب وہ اپنا مقصد حیات طئے کریں۔ طلبہ اپنے مضمون کے علاوہ انگریزی، ہندی اور دیگر زبانوں کو بھی سیکھنے کی کوشش کریں۔ یونیورسٹی میں ہنر پر مبنی پروگرامس بھی دستیاب ہیں۔ ان سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی قابلیت کو بڑھائیں اور جس میدان میں بھی کام کریں اس میں اعلیٰ معیار پر کام کریں۔
پروفیسر وناجا، ڈائرکٹر نظامت داخلہ نے اعلیٰ تعلیم کے بدلتے منظر نامے کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وبائی صورت حال کے باعث لوگوں کی آمدورفت متاثر تھی اس لیے یونیورسٹی کے دفتر تعلقاتِ عامہ اور الومنائی اسوسی ایشن نے داخلوں کے لیے مسلسل معلومات فراہم کیں۔ پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ انہوں نے طلبہ کو بتایا کہ اردو یونیورسٹی میں بنیادی تعلیم، کیریئر اورینٹیڈ کورسز اور ریسرچ کورسز سبھی دستیاب ہے۔ یہاں پر تعلیم کے ساتھ ساتھ شخصیت سازی پر توجہ دی جاتی ہے ۔ پروفیسر عبدالسمیع صدیقی، صدر نشین، دیکشارمبھ ٹاسک ٹیم نے بتایا کہ یو جی سی کی ہدایات پر اس پروگرام کو ترتیب دیا گیا۔ پہلے اس کی آف لائن منصوبہ بندی کردی گئی تھی لیکن کویڈ 19 وباءکے پیش نظر اسے آن لائن کردیا گیا۔ انہوں نے پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ پروفیسر علیم اشرف جائسی ، ڈین بہبودی ¿ طلبہ نے خیر مقدم کیا۔ ڈاکٹر مسرت جہاں، اسوسیئٹ پروفیسر اردو نے کاروائی چلائی۔ ڈاکٹر کہکشاں، لطیف، شعبہ ¿ ترجمہ و کوآرڈینیٹر دیکشارمبھ نے شکریہ ادا کیا۔ جناب رضوان احمد، ڈائرکٹر انسٹرکشنل میڈیا سنٹر کی نگرانی میں ان کی ٹیم نے اس پروگرام کو یوٹیوب لنک https://www.youtube.com/watch?v=A7CWju5rNCc پر لائیو ویب کاسٹ کیا۔ ڈاکٹر عبدالعلیم، اسسٹنٹ پروفیسر نظامت فاصلاتی تعلیم کی قرا ¿ت سے پروگرام کا آغاز ہوا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button