نیشنل

نائب صدر جمہوریہ ہند نے کہا آر ٹی طاقتور آلہ

نائب صدر جمہوریہ ہند جناب محمد حامد انصاری نے کہا ہے کہ آر ٹی آئی جمہوریت کو مضبوط کرنے اور اچھی حکمرانی کو فروغ دینے کا ایک طاقتور آلہ ہے۔ یہ بات انھوں نے آج لکھنؤ میں اترپردیش انفارمیشن کمیشن کی نئی عمارت کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اترپردیش کے گورنر جناب رام نائک، اترپردیش کے وزیر اعلیٰ جناب اکھیلیش یادو، الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے سینئر جج جسٹس اے پی ساہی اور اترپردیش کے چیف انفارمیشن کمشنر جناب جاوید عثمانی اس موقع پر موجود تھے۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا اس قانون کا مقصد شہریوں کو بااختیار بنانا، پبلک اتھارٹی کے روزمرہ کے کاموں میں شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دینا، اطلاعات فراہم کرنے والوں اور اطلاعات چاہنے والوں کے درمیان خلیج کو کم کرنا، پبلک اتھاریٹیز کے ایڈمنسٹریشن میں حسن کارکردگی میں اضافہ کرنا، بدعنوانی میں کمی لانا اور اچھی حکمرانی کو فروغ دینا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ قانون ہندوستان کی آزادی کے بعد بنائے گئے قوانین میں شہریوں کو سب سے زیادہ بااختیار بنانے والا اور ترقی پسندانہ قانون ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ قانون اچھی حکمرانی کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور خود گورنینس کی نوعیت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ اس قانون کے بنیادی اصولوں کو نافذ کیا جاچکا ہے، ادارہ جاتی میکانزم تیار کیا جارہا ہے اور ملک کے شہری اس کا استعمال گورنینس کی ہر سطح پر شفافیت اور جوابدہی لانے کے لئے ایک آلہ کے طور پر کررہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ جہاں سِول سوسائٹی کی تنظیمیں اور میڈیا پریشر پوائنٹس کے طور پر کام کرسکتا ہے وہیں زیادہ تر اصلاحات کا کام حکومت اور انفارمیشن کمیشنوں کے ذریعے کئے جانے کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی سطح پر مسلسل بیداری مہم چلائی جائے۔ سرکاری اداروں سے متعلق اطلاعات کا وسیع پیمانے پر رضاکارانہ طور پر افشاں کیا جائے اور سرکاری طریقہ کار سے متعلق رازداری کے تعلق سے پرانے ذہنی تحفظ سے چھٹکارہ حاصل کیا جائے اور جو لوگ آر ٹی آئی کے تحت اطلاعات چاہتے ہیں ان کو مضبوط اور محفوظ بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button