جنرل نیوز

بنگلہ دیش میں ہندو مندروں پر حملہ انتہائی قابل مذمت۔ ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی: سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں درگا پوجا تہوار کے دوران بنگلہ دیش میں ہندو مندروں اور ہندو برادری پر تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔ ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ یہ حملے مبینہ طور پر مسلمانوں کے نام پر سماج دشمن عناصر نے کیے ہیں۔ کسی بھی جمہوری نظام میں اقلیتوں کو حق حاصل ہے کہ وہ اکثریت کے ساتھ یکساں طور پر تمام شہری حقوق سے لطف اندوز ہوں اور اقلیتوں کے خلاف کسی بھی اقدام کو اکثریت سمیت کسی بھی فرد کے ساتھ حکمرانوں کو سنجیدگی سے نمٹنا چاہئے اور ان کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے چاہئے تاکہ تشدد کو دہرائے جانے سے روکا جاسکے۔ بنگلہ دیش میں گزشتہ بدھ کو مشرقی ضلع کمیلا کی ایک تصویر سوشیل میڈیا پر شائع کی گئی جس میں ایک ہندو مندر میں ایک مجسمے کے پاؤں پر قرآن دکھایا گیا، جس کے بعد ہند و مندروں پر حملوں میں شدت آنے کی اطلاع ہے۔ توہین مذہب کا یہ عمل اور اس کے بعد ہونے والا تشدد سے ایسا لگتا ہے کہ جان بوجھ کر دو مذہبی برادریوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ بنگلہ دیش کے پڑوسی ہندوستان میں مسلمانوں پر تشدد اورلنچنگ کیا جارہا ہے، یہ بھارت میں حکمران بنیاد پرست ہندوگروپ کو بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف تشدد کرنے والے مسلمانوں کو دکھا کراپنے مظالم کو چھپانے میں مدد دے گا۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کہا ہے کہ اقلیتوں پر حملے چاہے وہ مذہب،ذات، مسلک یا مراعات کے نام پر ہوں انتہائی قابل مذمت ہیں اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک میں اقلیتوں کے حقوق، جان و مال کی حفاظت کرے۔ انہوں نے البرٹ کاموس کے الفاظ’جمہوریت اکثریت کا قانون نہیں بلکہ اقلیت کا تحفظ ہے ‘کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیش کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ حملوں کو دہرائے جانے سے رو4519کنے، ملک میں ہندوبرادری کے تحفظ کو یقینی بنانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے موثر طریقے سے کام کرے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button