حیدرآباد کی ویکسین کورونا کی دوسری شکل کے اثر کو کم کرنے میں معاون

حیدرآباد _ حیدرآباد کی بھارت بائیوٹیک کمپنی کی جانب سے تیار کردہ کورونا کا ٹیکہ کوویکسن سارس سی او وی۔2کے بی ون 617 کی دوسری اور دیگر شکل کے اثر کو کم کرنے میں معاون پایاگیا۔انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ(آئی سی ایم آر)نے یہ بات بتائی۔ڈاکٹرسمیرن پانڈا چیف ایپی ڈومولوجی اینڈ کمیونکیبل ڈیزیزس ڈیویثرن آئی سی ایم آر نے کہا کہ یہ ایک اچھی خبر ہے اور امید ہے کہ دوسری لہر کے دوران عوام میں کم اضطراب ہوگا۔کوویکسن تشویش کے حامل دیگر اشکال کے ساتھ ساتھ ڈبل میوٹینٹ شکل کے اثر کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوا ہے۔آئی سی ایم آر۔نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرلوجی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے الگ تھلگ ہوکر ڈبل میوٹینٹ شکل کا تجزیہ کیا۔آئی سی ایم آر کے سائنسدانوں نے کہا کہ این آئی وی کامظاہرہ کیا گیا تاکہ برطانیہ اور برازیل کے وائرس کی نئی شکل کے خلاف کوویکسن کی صلاحیت کی جانچ کی جاسکے۔جنوبی افریقہ کی کے وائرس کی نئی شکل کا ڈاٹا تیار کیاگیا۔بھارت بائیوٹیک نے یکم مئی سے شروع ہونے والی ٹیکہ اندازی کے تیسرے مرحلہ کے بارے میں ٹوئیٹ بھی کیا۔