پٹرول اور ڈیزل میں ملاوٹ  کی پہچان اور جانچ کرنے کے لئے میکانزم موجود ہے: پارلیمنٹ میں حکومت کا بیان

 

پٹرول اور ڈیزل میں ملاوٹ  کی پہچان اور جانچ کرنے کے لئے حسب ضرورت مانیٹرنگ میکانزم  موجود ہے

ملاوٹ کی روک تھام کے لئے  آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے  مختلف اقدامات اور طریقے استعمال کئے ہیں

نئی دہلی _ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر مملکت جناب رامیشور تیلی نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت اور آئل  مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سی) پیٹرول  اور  ڈیزل  ملاوٹ  کے مسئلے سے واقف ہیں اور ان کے پاس  ملاوٹ  کی پہچان اور جانچ کرنے کے لئے حسب ضرورت مانیٹرنگ میکانزم  موجود ہے۔  ملاوٹ کی روک تھام اور نچلی سطح کی گاہکوں کو  صحیح کوالٹی اور مقدار  فراہم کرائے جانے کو یقینی بنائے جانے کے لئے او ایم سی مختلف اقدامات/طریقے اختیار  کرتی رہتی ہیں جو کہ ایک جاری رہنے والا عمل ہے۔

 

ملاوٹ کو روکنے کے لیے او ایم سیز نے  مارکیٹنگ ڈسپلن گائیڈ لائنز (ایم ڈی جی) اور ڈیلرشپ ایگریمنٹ  کے مطابق مختلف اقدامات اور طریقے اپنائے  ہیں، جن میں درج ذیل  شامل ہیں:

 

ایم ایس/ ایچ ایس ڈی کے معیار اور مقدار کی جانچ کے لیے ریٹیل آؤٹ لیٹس پر فلٹر پیپر، کیلیبریٹڈ ڈینسٹی ایکوئپمنٹ (ہائیڈرومیٹر/تھرمومیٹر) اور 5 لیٹر کیلیبریٹڈ  میجر  دستیاب کرایا۔ملک بھر میں  او ایم سی  فیلڈ افسروں/سینئر افسروں/موبائل لیبز کے ذریعے ریٹیل آؤٹ لیٹس پر مستقل /سرپرائز معائنہ کیا جاتا ہے۔ بے ضابطگی پائی جانے  کی صورت میں ایم ڈی جی اور ڈیلرشپ ایگریمنٹ کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔معائنہ کرنے کے لیے ایک علیحدہ کوالٹی ایشورنس سیل (کیو اے سی ) تیار کیا گیا ہے۔پیٹرول پمپوں سے بے ترتیب نمونے لئے جانتے ہیں اور انہیں جانچ کے لئے اٹھارائزڈ  لیبارٹریوں میں بھیجا جاتا ہے۔راستے میں چوری/ ملاوٹ  کی روک تھام کے لیے کمپنی کے احاطے سے نکلنے سے پہلے ٹینکروں  کو سیل کیا جاتا ہے۔ایم ایس/ ایچ ایس ڈی  لے جانے والے ٹینک ٹرکوں کی نگرانی کے لئے   جی پی ایس لگائے گئے ہیں۔ مؤثر نگرانی اور بینچ مارکنگ کے لیے او ایم سی  کے ذریعے ریٹیل آؤٹ لیٹس کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جاتا ہے۔او ایم سی  کے ذریعہ  ریٹیل آؤٹ لیٹس کا آٹومیشن کرایا گیا جس سے  سیلز ٹرانزیکشن کی ریئل ٹائم  گرفت  اور ٹینک اسٹاک اور حصولیابی کی مانیٹرنگ کی جاسکتی ہے۔

 

مارکیٹنگ ڈسپلن گائیڈلائنز کے تحت ملاوٹ کے معاملات کو ’تشویشناک بے قاعدگی‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے اور ایسے  معاملات میں او ایم سیز  کے ذریعے  ریٹیل آؤٹ لیٹ کی  ڈیلرشپ  پہلے ہی معاملے میں  ختم کردی جاتی ہے۔ 2015-16 سے اپریل-ستمبر 2021 تک کے برسوں میں ملاوٹ کے صحیح پائے گئے معاملات میں او ایم سیز  58 ریٹیل آؤٹ لیٹس کی ڈیلر شپ کو  ختم کیا ہے۔

 

او ایم سیز نے  بتایا ہے کہ انہوں نے ایسا  کوئی مطالعہ نہیں کرایا ہے جس سے  پتہ چلے کہ ملاوٹ والے پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال سے  خالص پیٹرول اور ڈیزل  کے مقابلے  زیادہ آلودگی ہوتی ہے۔