بزنس

اس سال تلنگانہ کا آم امریکہ میں ہوگا فروخت _ چار ریاستوں کو آم ایکسپورٹ کرنے کی ملی منظوری

ئی دہلی،11 جنوری ( پی آئی بی ) مرکزی حکومت نے، جاریہ  سیزن میں ہندوستانی آم کی امریکہ کو برآمد کے لیے ، امریکہ کے محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کی منظوری حاصل کرلی ہے۔ اس طرح اب امریکہ میں صارفین کو ہندوستان کے بہترین آم تک رسائی حاصل ہوگی۔

امریکہ نے ہندوستانی آم کی برآمد پر 2020 سے پابندی لگا دی ہے کیونکہ یو ایس ڈی اے کے  شعاع ریزی کے انسپیکٹر سہولت کے معاہدے کے لیے، ہندوستان کا دورہ کرنے سے قاصد تھے کیونکہ کووڈ-19 وبا کے باعث بین الاقوامی سفر پر پابندیاں عائد تھیں۔

حال ہی میں، 23 نومبر 2021 کو منعقد ہونے والی بارہویں ہند- امریکہ تجارتی پالیسی فارم (ٹی ایف پی) کی میٹنگ کے مطابق زراعت اور کسان کی بہبود کے محکمے  اور امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) نے  2 بمقابلہ 2 زرعی منڈی تک رسائی کے مسائل کو نافذ کرنے کے لیے ایک معاہدے کے فریم ورک پر دستخط کئے ہیں۔

معاہدے کے تحت  ہندوستان سے  امریکہ  کو ہندوستان کے آم اور انار کی برآمدات جبکہ امریکہ سے چیری  اورالفالفا کی درآمد کے لیے شعاع ریزی کے مشترکہ پروٹوکول پر عملدرآمد کریں گے۔

ایک نظر ثانی شدہ ورک پلان پر کام کیا گیا ہے جس میں شعاع ریزی کے  استعمال کی پیشگی منظوری کی نگرانی کی مرحلہ وار منتقلی بھی شامل ہے جیسا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پایا ہے۔

باہمی معاہدے کے ایک حصے کے طور پر، ہندوستان مارچ کے مہینے کے بعدآموں کی الفانسو قسم کے ساتھ شروع ہونے والے آم کے سیزن میں ، امریکہ کو آم برآمد کرسکے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ امریکہ میں ہندوستانی آم کی بہت زیادہ مقبولیت ہے نیز یہ صارفین کے لیے ترجیح ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان نے 18-2017 میں امریکہ کو 800 میٹرک ٹن (ایم ٹیز) آم برآمد کئے تھے اور اس پھل کی برآمداتی قیمت 2.75 امریکی ملین ڈالر تھی۔

اسی طرح، 19-2018 میں 3.63 ملین امریکی ڈالر کی مالیت کے 951 ایم ٹی ہندوستانی آم امریکہ کو برآمد کئے گئے تھے جبکہ 20-2019 میں 1095 ایم ٹی آم امریکہ بھیجے گئےتھے جن کی مالیت 4.35 ملین امریکی ڈالر رہی تھی۔

برآمد کنندگان سے موصول ہونے والے تخمینے کے مطابق سال 2022 میں امریکہ کو ہندوستان آم کی برآمدات سال 20-2019 کے اعداد وشمار سے تجاوز کرسکتی ہے۔

یو ایس ڈی اے کی منظوری سے آم کے روایتی پیداواری  حصوں سے برآمدات کی راہ ہموار ہوگی جن میں مہاراشٹر، اترپردیش ، آندھراپردیش اور تلنگانہ شامل ہیں۔

زرعی اور ڈبہ بند مصنوعات کی برآمدات کی ترقیاتی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) نے کہا ہے کہ یہ لنگڑا، چوسا، دسہری، فضلی وغیرہ جیسے شمال اور مشرقی ہندوستان کے آم کی دیگر ذائقے دار اقسام کو  اترپردیش ، بہار اور مغربی بنگال سے برآمد کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

اناج کی برآمدات اپریل 2022 سے شروع ہوگی جبکہ امریکہ سے الفالفا اور چیری کی درآمدات اپریل 2022 میں شروع ہوں گی۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button