بزنس

پٹرولیم مصنوعات میں ملاوٹ والے ایتھنول کے جی ایس ٹی کو 18 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کردیا گیا

 

نئی دہلی، 16  دسمبر _ پیٹرولیم اور قدرتی گیس  کے وزیر مملکت جناب رامیشور تیلی نے آج لوک سبھامیں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات دی ہے کہ ایتھنول کی ملاوٹ کو فروغ دینے کے لیے حکومت نےایتھنول بلنیڈڈ پیٹرول  (ای بی پی) پروگرام کے تحت  ایتھنول کی ملاوٹ کےلئے  اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح کو 18 فیصد سے کم کر کے 5 فصد  کر دیا ہے۔ گنے کی بنیاد پر فیڈ اسٹاک سے تیار کردہ ایتھنول کی خریداری کی قیمت جیسےسی اینڈ  بی ہیوی گُڑ، گنے کا رس، چینی، شوگر سیرپ حکومت کی طرف سے اور پبلک سیکٹر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعہ غذائی اجناس پر مبنی فیڈ اسٹاک سے سالانہ بنیادوں پر طے کی جاتی ہے۔

 

درآمدی پٹرول پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات میں خام تیل کی ملکی پیداوار میں اضافے کے لیے متعدد پالیسی اقدامات شامل ہیں جن میں معیاری جیو سائنٹیفک ڈیٹا اور اس تک آسان رسائی، نئی تلاش کے رقبے کو نوازنا، نئے ترقیاتی رقبے سے پیداوار کو تیز کرنا اور موجودہ پیداواری رقبے سے زیادہ سے زیادہ پیداوار پرتوجہ مرکوز کرنا شامل ہے۔اس  نے بائیو فیول پر قومی پالیسی (این پی بی )،2018 کی  نوٹیفکیشن کے ذریعے ملک میں بائیو فیول کے استعمال کو فروغ دیا ہے جو کہ پیٹرول کے ساتھ ملاوٹ کے لیے ایتھنول کی بڑھتی ہوئی سپلائی کے لیے بائیو ایتھنول بنانے کے لیے متعدد فیڈ اسٹاکس کے استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ ایتھنول کی فراہمی کے حوالے سے حوصلہ افزا اقدامات نے حکومت کو 2030 سے 2025-26 تک ملک میں پیٹرول میں 20فیصد  ایتھنول کی ملاوٹ کے ہدف کو آگے بڑھانے پر حوصلہ افزائی کی ہے۔ حکومت نے مالی مدد فراہم کرکے ملک میں پیٹرو کیمیکل روٹ سمیت سیلولوسک اور لگنوسیلیوسک سے سیکنڈ جنریشن(ٹو جی)  ایتھنول کی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے پردھان منتری جے آئی ،وی اے این  ،یوجنا کو بھی مطلع کیا ہے۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button