بزنس

ہوٹل اور ریسٹورنٹ کھانے کے بلوں پر صارفین سے سروس چارج وصول نہیں کرسکتا _ حکومت کے رہنمایانہ خطوط جاری

نئی دہلی _ 4 جولائی ( اردولیکس ڈیسک) سینٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی (سی سی پی اے) نے کہا ہے کہ ہوٹل اور ریسٹورنٹ کھانے کے بلوں پر خود بخود یا ڈیفالٹ سروس چارج نہیں لگا سکتے۔ CCPA نے کہا کہ صارفین سروس چارجز وصول کرنے والے ہوٹلوں/ریسٹورنٹس کے خلاف نیشنل کنزیومر ہیلپ لائن نمبر 1915 پر شکایات درج کر سکتے ہیں۔

بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر CCPA نے سروس چارج لگانے ، غیر منصفانہ تجارتی طریقوں اور صارفین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے آج رہنما خطوط جاری کیے ہیں رہنمایانہ خطوط کے مطابق، کوئی ہوٹل یا ریسٹورنٹ خود بخود یا پہلے سے طے شدہ بل میں سروس چارج شامل نہیں کرے گا۔اس میں مزید کہا گیا کہ کسی اور نام سے سروس چارج کی وصولی نہیں ہونی چاہیے۔

کوئی ہوٹل یا ریسٹورنٹ کسی صارف کو سروس چارج ادا کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ انہیں صارف کو واضح طور پر بتانا ہوگا کہ سروس چارج رضاکارانہ، اختیاری اور صارف کی صوابدید پر ہے۔رہنمایانہ خطوط میں کہا گیا ہے کہ صارفین پر سروس چارج کی وصولی کی بنیاد پر داخلے یا خدمات کی فراہمی پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔

مزید یہ کہ سروس چارج کو کھانے کے بل کے ساتھ شامل کرکے اور کل رقم پر جی ایس ٹی لگا کر وصول نہیں کیا جاسکتا۔اگر کسی صارف کو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ہوٹل یا ریسٹورنٹ رہنمایانہ خطوط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سروس چارج لگا رہا ہے، تو وہ متعلقہ ادارے سے اسے بل کی رقم سے ہٹانے کی درخواست کر سکتا ہے۔

صارفین نیشنل کنزیومر ہیلپ لائن (NCH) پر بھی شکایت درج کر سکتے ہیں، جو کہ 1915 پر کال کر کے یا NCH موبائل ایپ کے ذریعے پہلے سے قانونی چارہ جوئی کی سطح پر تنازعات کے ازالے کے متبادل طریقہ کار کے طور پر کام کرتی ہے۔وہ کنزیومر کمیشن میں بھی شکایات درج کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button