بزنس

کریم نگر میں رفاہ چیمبرس آف کامرس کے سمپوزیم بعنوان ” تجارت اور صنعت کی ترقی کیوں اور کیسے ” کا کامیاب انعقاد

کریم نگر _ 5 جولائی ( پریس ریلیز) رفاہ چیمبرس آف کامرس جو کہ آل انڈیا سطح پر جماعت اسلامی ہند کی جانب سے قائم کیا گیا ہے اس کی شاخیں اب تک 17 ریاستوں میں قائم ہوچکی ہیں تلنگانہ میں قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس کا تعارف اغراض و مقاصد اور اس سے ہونے والے فائدے سے واقف کروانے کے لئے مسلم تاجر حضرات کے لئے ایک سمپوزیم بعنوان تجارت اور صنعت کی ترقی کیوں اور کیسے بمقام پیکاک ہوٹل، راجیو چوک، کریمنگر، بروز پیر، شام 5 بجے رکھا گیا تھا۔

جس میں رفاہ کے تلنگانہ کے ریاستی صدر جناب یوسف خان، مرکزی ذمہ دار جناب صلاح الدین احمد صاحب(دہلی) اور بابا محی الدین، کور کمیٹی ممبر نے شرکت کی۔ افتتاحی کلمات جناب محمد خیرالدین صاحب، ناظم ضلع کریمنگر نے ادا کئے، آپ نے کہا کہ دنیا اور آخرت کی کامیابی، محنت اور مشقت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ تجارت میں پیسہ، محنت، وقت، صلاحیتیں لگانا پڑتا ہے۔ آخرت کی کامیابی کے لئے بھی ان چیزوں کو اللہ کی راہ میں لگانا ضروری ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رزق کے 10 میں سے 9 حصہ تجارت میں ہے۔ جو آج ہم بھلا چکے ہیں۔ رفاہ کے ریاستی صدر نے بتایا کہ رفاہ آپ کے کاروبار کیسے ترقی کرتا ہے، دشواریوں کو کیسے دور کرنا ہے۔ اور سرکاری اسکیمات سے کیسے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے پر روشنی ڈالی۔ مرکزی ذمہ دار رفاہ صلاح الدین احمد صاحب نے بتایا کہ چھوٹے بڑے کاروبار یا کارخانہ ورک شاپ چلانے والے کلسٹر بنا کر حکومت سے نوے فیصد سبسیڈی پر بڑے مشین حاصل کر سکتے ہیں۔ کسی بھی طرح کے مسائل ہوں، مشورے ہوں، رفاہ آپ کی رہنمائی کرے گا۔ ہر طبقہ کا چیمبر آف کامرس ہے لیکن ابھی تک مسلمانوں کا کوئی نیشنل سطح پر چیمبر آف کامرس نہیں تھا اب قائم ہو چکا ہے اس کے ذریعے سے نئے کاروبار شروع کرنے والوں کو رہنمائی کی جائے گی۔

بابا محی الدین صاحب کور کمیٹی ممبر نے تفصیلات پیش کیے ۔کریم نگر میں انشاءاللہ رفاہ چیمبرآف کامرس کی یونٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا رابطے کے لیے اس کی ویب سائٹ اور سیل نمبر دیا گیا کیا بعد ازاں سوال و جواب کا موقع رہا سوالات کے جوابات دیئے گئے ۔ اس اجلاس میں امیر مقامی، کریمنگر سنٹرل، نعیم الدین احمد ، محمد کمال الدین سول کنٹریکٹر اصغر علی پیکاک ہوٹل، متین صاحب کے علاوہ چالیس تاجر حضرات شریک رہے محمد خیرالدین صاحب کے شکریہ کے ساتھ اجلاس کا اختتام ہوا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button