راگھویندرا کالونی کے مکینوں کو ہراساں کرنے کی شکایت

حیدرآباد: راگھویندرا نگرکوآپریٹیو ہاوزنگ سوسائیٹی لیمٹیڈ کے ذمہ داروں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جی ایچ ایم سی اور حیدرآباد کے نارتھ لیک ڈیویژن کی جانب سے انہیں ذہنی اذیت ومالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔راگھویندرا نگر کواپریٹیو ہاوزنگ سوسائٹی لمیٹیڈ کے ذمہ داروں کے جناردھن ریڈی صدر‘ رمیش گپتا نائب صدر‘ سی اے آر پی ناگلا سکریٹری اور فضل الرحمن خرم خازن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ 90کے دہے کے دوران شاستری پورم و دیگر کالونیوں کے قیام کے بعد گندہ پانی جمع ہونا شروع ہوگیاتھاجسے تالاب سمجھ میں لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایک سوشیل ورکر کی جانب سے اس کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے مسئلہ کو نیشنل گرین ٹریبونل سے رجوع کیاگیا جبکہ جی ایچ ایم سی کے پاس اس کا ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے اورتحفظ کے نام پرحد بندی کا آغاز کیا اورحد بندی کے نام پریہاں کے مکینوں کی اراضیات پرقبضہ کیا جارہا ہے۔10 سے زائد کالونیوں کا سیوریج اس تالاب میں آرہا ہے جس کے نتیجہ میں 2013ء میں 2 مرتبہ سیلاب آیا تھا۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے کنگس کالونی سے نئی باکس ڈرینج لائن ایف ٹی ایل کے 70 فیصد علاقہ میں بچھائی گئی ہے تو پھر یہاں رہنے والوں کو کیوں غیرضروری ہراساں کیا جارہا ہے۔ یہاں کے مکینوں اور سوسائٹی کو نوٹسیں دیئے بغیر جی ایچ ایم سی اور نارتھ لیک ڈیویژنس پٹہ کی اراضیات پر غیرمجاز قبضے کئے جارہے ہیں جس کے نتیجہ میں املاک کو نقصان پہونچ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تالاب کو غلط طورپر خراب نیت کے ساتھ 100 سے زائد ایکڑ والی تاریخی جھیل قراردیا گیا ہے جبکہ پشتے کی دوسری جانب تاریخی کنٹہ ہے۔ یہ کنٹہ دراصل ایک شکل میں ہے جہاں نوابوں کے لئے پینے کا پانی حاصل کیا جاتا تھا ۔ اس کو 1952 ء میں گھانس والی کنچہ کی اراضی قراردیا گیا تھا۔ 1985 ء سے لی گئی سٹلائٹ کی تصاویر پانی کے علاقہ کی نام نہاد جھیل کے تحریری شواہد ہیں۔ گھنے جنگل کی موجودگی کا سٹلائٹ کے نقشوں سے پتہ چلا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جھیل نہیں گھانس کا علاقہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کے مکینوں اور سوسائٹی کو نوٹسیں دیئے بغیر جی ایچ ایم سی اور نارتھ لیک ڈیویژنس پٹہ کی اراضیات پر غیرمجاز قبضے کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں املاک کو نقصان پہونچ رہا ہے۔ سوسائٹی کو 2 ایکڑ اراضی کا نقصان ہوا ہے۔ بلدی ادارے غیرضروری طورپر تالاب کے اطراف کے پودوں کو تباہ کیا جارہا ہے۔ محکمہ جنگلات نے اس پر ان پر جرمانہ بھی عائد کیا۔ جی ایچ ایم سی اور نارتھ لیک ڈیویژن کو زیادتی اور ضرورت سے زیادہ سرگرمیاں‘ اختیارات اور قانون کے غلط استعمال کا ثبوت ہے۔