داعش سے مبینہ تعلق کی بنیاد پر گرفتار ضوان کی ضمانت عرضداشت پر فریقین کی بحث مکمل

ممبئی _ اترپردیش کے شہر کشی نگر سے ممنوع تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) کے لئے کام کرنے اور مسلم نوجوانوں کو آئی ایس آئی ایس کی جانب راغب کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار رضوان احمدکی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر آج فریقین کی بحث مکمل ہوگئی جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے ممبئی سیشن عدالت میں قائم خصوصی این آئی اے عدالت میں ضمانت عرض داشت پر بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو 22جنوری 2016 کو اس کے گھر سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ کالج جانے کی تیار ی کررہا تھا تب سے ملزم جیل میں ہے اور دوران قید اسے تپ دق اور گلے میں گانٹ آگئی ہے جس کی وجہ سے وہ شدید پریشانی کا شکار ہے۔
ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ ستمبر 2018 میں ملزم کے خلاف چارج فریم کیا گیا لیکن ابھی تک ٹرائل کا اختتام نہیں ہوا ہے اور جس طرح مقدمہ چل رہا ہے اس کے جلد اختتام پذیر ہونے کے امکانات نہ کے برابر ہیں لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔ انہو ں نے مزید کہا کہ استغاثہ نے ملزم کے خلاف گواہی دینے کے لیئے 300 گواہوں کو نامزد کیا ہے جبکہ ابتک ساڑھے پانچ سالوں میں صرف 26 گواہوں کی گواہی عمل میں آئی ہے لہذاسپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق مقدمہ میں غیر ضروری تاخیر کی وجہ سے ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے۔
ایڈوکیٹ شریف شیخ نے خصوصی جج وانکھیڈے کو دوران بحث بتایا کہ ہ استغاثہ کے مطابق مفرور ملزم ایاز محمد ملک شام چلا گیا لیکن استغاثہ عدالت میں ایک بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا کہ عرض گذار رضوان ایاز کو جانتا تھا یا وہ اس کے رابطہ میں تھانیز استغاثہ کے ذریعہ عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں ملزم کے ملاڈ کے نواجوں کو جہاد کی ترغیب دینے اور داعش کو جوائن کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔شریف شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف ایسا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا ہیکہ ملزم داعش تنظیم کا نائب امام (ہندوستان) تھا بلکہ یہ ایک خیالی اور فرضی عہدہ ہے جس سے ملزم کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ حال میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے اپنے ایک فیصلہ میں کہا ہیکہ مقدمہ کی تیز سماعت ملزم کا آئینی حق ہے اور اگر مقدمہ کی تیز سماعت نہیں ہورہی ہے اور مقدمہ فیصل ہونے میں وقت درکار ہے تو ملزم کا حق ہے کہ اسے ضمانت پر رہا کیا جائے۔
ایڈوکیٹ شریف شیخ کی بحث کے اختتام کے بعد خصوصی سرکاری وکیل ایڈوکیٹ پرکاش شیٹی نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ میں تاخیر کی وجہ کرونا ہے نہ استغاثہ، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو سنگین الزامات کے تحت گرفتار کیا ہے لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا نہیں کرنا چاہئے۔
ملزم رضوان کی ضمانت عرضداشت پر بحث مکمل ہونے کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزم 2016 سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہے اور ٹرائل ختم ہونے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں اسی لیئے ملزم کی ضمانت پر رہائی کے لیئے کوشش کی گئی ہے اور انہیں امید ہیکہ عدالت ملزم کو ضمانت پر رہا کریگی کیونکہ ساڑھے پانچ سال کا طویل عرصہ گذر جانے کے باجود ابھی تک ٹرائل نصف بھی نہیں ہوئی ہے اور جیسے حالات ہیں ٹرائل میں مزید تاخیر ہوسکتی ہے۔
واضح رہے کہ استغاثہ کا الزام ہیک ملزم ممبئی کے ملاڈ مالونی علاقے کے چند مسلم نوجوانو ں کو انٹرنیٹ کی مدد سے داعش میں شمولیت کے لئے اکسا رہا تھا نیز اسی کی ایماء پر 2016 میں لاپتہ ہونے والے ایک نوجوان کو ملک سے فرار ہونے میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ذہن سازی کرنے کا بھی الزام ہے۔