بیرسٹر اسدالدین اویسی کے خلاف بارہ بنکی میں مقدمہ درج

حیدرآباد _ اترپردیش پولیس نے کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد کے خلاف مبینہ طور پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے ، کوویڈ کے اصولوں کی خلاف ورزی اور وزیر اعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف "غیر مہذب” تبصرے کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔بیرسٹر اویسی کے خلاف ایف آئی آر جمعرات کی رات ان کی پارٹی کی ریلی کے بعد بارابنکی سٹی پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ ، بارابنکی ، جمنا پرساد نے بتایا کہ مذہب کی بنیاد پر سماج میں تفرقہ کو کو فروغ دینے ، سرکاری ملازم کے حکم کو نظر انداز کرنے ، وبائی ایکٹ وغیرہ سے متعلق آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے جمعرات کو کٹرا چندنا میں پارٹی کے جلسے میں بہت زیادہ ہجوم کو جمع  کرکے ماسک اور سماجی دوری پر کوویڈ ہدایات کی خلاف ورزی کی۔

ایس پی نے کہا کہ اپنی تقریر میں مجلس کے سربراہ نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والے بیانات دیئے اور کہا کہ 100 سال پرانی رام سنیہی گھاٹ مسجد کو انتظامیہ نے مسمار کردیا اور اس کا ملبہ بھی ہٹا دیا گیا۔