تبدیلی مذہب معاملے میں مزید تین افراد گرفتار _ مولانا کلیم صدیقی کے ساتھی ہونے اترپردیش اے ٹی ایس کا دعوٰی

حیدرآباد_ اترپردیش اے ٹی ایس نے تبدیلی مذہب کے الزام میں اتوار کو مزید تین افراد کو گرفتار کرلیا جن میں دو افراد کو مظفرنگر اترپردیش اور ایک شخص کو مہاراشٹر کے ناسک شہر سے گرفتار کرلیا ہے اے ٹی ایس نے دعوی کیا ہے کہ گذشتہ منگل کو اترپردیش کے ضلع میرٹھ سے مبینہ تبدیلی مذہب کے الزام میں گرفتار کئے گئے معروف اسلامی اسکالر مولانا کلیم صدیقی کے  تین ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا ہے اس کیس کی  تفتیش میں ان کے بینک کھاتوں سے 20 کروڑ روپے کی لین کی جانکاری ملی ہے۔انڈیا ٹی وی اور اے  این آئی کی رپورٹ کے مطابق اے ٹی ایس کی مولانا سے پوچھ تاچھ کے بعد ان کے  تین ساتھیوں کا سراغ لگا اور اے ٹی ایس نے انہیں گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ، ان میں اترپردیش کے مظفر نگر کے فلت کے رہنے والے مولانا محمد ادریس قریشی، محمد سلیم اور مہاراشٹر کے ناسک شہر کے عاطف عرف کنا اشوک چودھری شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عاطف عرف کنال چوہدری کو ناسک کے آنند نگر علاقے سے گرفتار کیا گیا۔اتر پردیش اے ٹی ایس کے مطابق ، عاطف دو سال سے مذہبی تبدیلی سنڈیکیٹ میں مولانا کلیم صدیقی کے ساتھ وابستہ ہے۔عاطف نے روس سے طب کی تعلیم حاصل کی تھی۔ روس سے اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ، وہ ملک میں میڈیسن کی پریکٹس کے لیے لازمی میڈیکل کونسل آف انڈیا (MCI) امتحان کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا۔ اس کے بعد عاطف نے ناشیک میں غیر قانونی طور پر پریکٹس شروع کی۔ اے ٹی ایس نے بتایا کہ اس نے اسلام قبول کرنے کے لیے مریضوں کو متاثر کرنا شروع کیا۔اترپردیش اے ٹی ایس کے مطابق مذہبی تبدیلیوں کو انجام دینے کے لیے عاطف کے مختلف بینک کھاتوں میں کروڑوں روپے بیرون ملک سے بھیجے گئے ہیں۔