جنرل نیوز

داونگیرے یونیورسیٹی میں ایجوکیشن ڈے کے موقع سے حافظؔ کرناٹکی کا کلیدی خطبہ اور اعزاز

آج بروز بدھ یکم دسمبر 2021 داونگیرے یونیورسیٹی میں ایجوکیشن ڈے منایا گیا۔ اس پروقار جلسے کی صدارت کے فرائض وائس چانسلر پروفیسر ہلسی نے ادا کیے۔ اس خاص نوعیت کے جلسے کے موقع سے وائس چانسلر پروفیسر ہلسی نے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کے اعزاز کا اہتمام کیا۔ اور مولانا ابو الکلام آزاد پرڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کے کلیدی خطبے کابھی اہتمام کیا۔ اس اس خصوصی پروگرام کے خاص مہمان ڈاکٹر سی، آر نصیر احمد صاحب تھے۔ جب کہدوسرے مہمانوں میں گایتری دیوراج، پروفیسر ایچ ایس انیتا، اور سری متی پرینکا بھی موجود تھیں۔ان کے علاوہ یونیورسیٹی کے سارے پروفیسر حضرات، ملازمین اورطلبا بھی موجود تھے۔پروفیسر ہلسی وائس چانسلر داونگیرے یونیورسیٹی نے اپنے ہاتھوں سے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کا اعزاز کیا۔

ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے اپنے خصوصی خطاب میں مولانا ابوالکلام آزاد کی حیات و خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان کی مٹّی میں روحانیت کی خوشبو رچی بسی ہے۔ اس سر زمین کے چپے چپے پر رشیوں، منیوں اور اولیاء اللہ کی یادگاریں موجود ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد بھی صوفی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ اس لئے ان کا دل ایک دم روشن تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد دنیا کے بہترین دماغوں میں سے تھے۔ وہ حیرت انگیز انسان تھے۔ اپنے وطن سے انہیں بے اندازہ محت تھی۔ اتّحاد و اتّفاق کے وہ سب سے بڑے حامی تھے۔ ان کی ذات بذاتِ خود ایک تحریک تھی۔ ان کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے محض چودہ سال کی عمر میں اخبار نکالنا شروع کردیا۔ غلامی کے خلاف جہاد چھیڑ دیا۔ ان کی عمرِ عزیز کا بڑا حصّہ جیلوں میں گذر گیا۔ وہ گاندھی جی سے اتنا قریب تھے کہ ہر اہم معاملے میں گاندھی جی ان سے مشورہ کرتے تھے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو انہیں اپنا سب سے مخلص اور بھرسے مند دوست قرار دیتے تھے۔وہ ہندوستان کی تقسیم کے سب سے بڑے مخالف تھے۔ ان کی قابلیت اور لیاقت کا اندازہ صرف اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آزادی کے بعد ہندستان کے پہلے وزیرِ تعلیم کے طورپر انہوں نے ذمہ داری سنبھالی۔ اور ہندوستان کے تعلیمی نظام کو اس طرح چست اور درست کردیا کہ آج تک انہیں کے بنائے نظامِ تعلیم پر ہندوستان کا تعلیمی نظام چل رہا ہے۔ آئی،آئی،ٹی قائم کیا۔ یونیورسیٹی گرانٹ کمیشن کا ڈول ڈالا۔ نیشنل بک ٹرسٹ کی بنیاد رکھی۔ آئی،اے،ایس کا خاکہ مرتب کیا غرض یہ کہ انہوں نے غلامی سے آزادہوئے، ہندوستان کو تعلیمی اعتبار سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے لائق بنادیا۔ ساہتیہ اکادمی ہو کہ تھیٹر اکادمی سب کچھ انہوں نے قائم کردیا۔ ان کے ایک دماغ میں ہزاروں دماغ کی طاقت تھی۔ تصوّف، فقہ، دینیات، تفسیر، انشاپردازی، صحافت، اور سیاست جس میدان میں انہوں نے قدم رکھا مثال قائم کردی۔ ایسے رہنما کو یاد رکھنا اور ان کے سپنوں کو پورا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ میں وائس چانسلر پروفیسر ہلسی صاحب اور برادرم ڈاکٹر سی،آر، نصیراحمد صاحب اورآپ تمام حضرات کا مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے اس تاریخی مجلس میں عزّت بخشی۔

ڈاکٹر سی،آر،نصیراحمد صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں داونگیرے میں رہتا ہوں اور حسبِ استطاعت سماجی اور تعلیمی خدمات انجام دیتا ہوں۔ مجھے جب خبر ملی کہ میرے بھا ئی ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو قومی ادبِ اطفال ایوارڈ ملا ہے تو مجھے بے انتہا خوشی ہوئی۔ مجھے لگا کہ داونگیرے میں بھی ان کے لئے ایک اعزازی نشست ضرور کرنی چاہیئے۔ پھر مجھے خیال آیا کہ نشست شایانِ شان ہو۔ میں نے اپنے خیالات کا اظہار داونگیرے یونیورسیٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ہلسی کے سامنے کیا۔ وہ بے حد خوش ہوئے۔ اور کہا کہ یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہوگی کہ ہم ایک قابلِ فخرشاعر و ادیب کے لئے اعزازی مجلس منعقد کریں۔لہذا انہوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خصوصی خطاب کا بھی اہتمام کیا۔ ڈاکٹر سی۔آر نصیر احمدصاحب نے مزید کہا کہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی صرف کتابوں تک محدود نہیں ہیں۔ ان کی نظمیں، غزلیں، حب الوطنی کے نغمے یوٹیوب پردھوم مچارہے ہیں۔میں جب بھی انہیں سنتا ہوں تو قلبی مسرت اور فخر کا احساس ہوتا ہے۔انہوں نے اپنی بات ختم کرنے سے پہلے کہا کہ پرفیسر ہلسی وائس چانسلر دانگیرے یونیورسیٹی کا بے حد ممنون ہوں کہ انہوں نے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کے اعزاز کے لئے اس مجلس کا انعقاد کیا۔ پروفیسر ہلسی وائس چانسلر داونگیرے یونیورسیٹی نے اپنے صدراتی خطاب میں کہا کہ ہمارے لئے یہ خوشی اور فخر کا موقع ہے کہ ہم نے ایک قومی ایوارڈ یافتہ شاعر و ادیب کے ساتھ وقت گزارا۔ان کا اعزاز کرکے اپنے معزز ہونے کو محسوس کیا۔مولانا آزاد سے متعلق ان کے خیالات جان کر اپنے علم میں اضافہ کیا۔بڑی شخصیت کی صحبت سے بھی بڑا فائدہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لئے یہ بھی اطمینان کی بات ہے کہ ہماری یونیورسیٹی میں بھی اردو کا شعبہ قائم ہے۔ میں اس شعبہ کی وسعت اور ترقی کے لئے جو ممکن ہوسکے گا ضرور کروں گا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ نئے ہندوستان کے معماروں میں مولانا آزادکا نام بہت نمایاں اور بہت محترم ہے۔ جس طرح جنگ آزادی میں انہوں نے قائدانہ رول ادا کیا اسی طرح انہوں نے ہندوستان کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھانے میں بھی قائدانہ رول ادا کیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا آزاد فاؤنڈیشن جس طرح تعلیم کے لئے اسکالرشپ فراہم کرتی ہے۔ وہ بھی مولانا آزاد کے خوابوں کی تکمیل کا حصہ ہے۔جس سے ہزاروں بچے فیض پاتے ہیں۔اور تعلیم کے میدان میں آگے بڑھتے ہیں۔ یہ یادگار جلسہ بہت اچھے تاثرات مرتب کرکے اختتام کو پہنچا۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button