نیشنل

مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکی۔ دھرم سنسد اشتعال انگیز تقاریر پر آج سپریم کورٹ میں سنوائی

نئی دہلی: سپریم کورٹ میں آج دھرم سنسد میں مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیاں دیتے ہوئے کی گئیں قابل اعتراض اور انتہائی اشتعال انگیز تقاریرسے متعلق داخل کی گئی درخواستوں پر آج سماعت کی جائے گی۔ قربان علی، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج انجنا پرکاش اور سینئر وکیل پرشانت بھوشن کی جانب سے داخل کی گئی درخواستوں پر آج سماعت ہوگی۔ یہ درخواستیں مفاد عامہ کےتحت داخل کی گئی ہیں،چیف جسٹس این وی رمن،جسٹس سوریہ کانت اور ہیما کوہلی کی بنچ اس کی سماعت کرے گی۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ‘ آسٹریلیا‘امریکہ‘ برطانیہ‘ نیدرلینڈس‘ جرمنی‘ اسکاٹ لینڈ‘ فن لینڈ اور نیوزی لینڈ میں رہنے والے غیرمقیم ہندوستانیوں اور تارکین وطن جن میں ہندو‘ مسلمان‘سکھ اور عیسائی بھی شامل ہیں نے دھرم سنسد میں کی گئی تقاریر پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ 28تنظیموں پر مشتمل ایک گروپ نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئےنفرت پر مبنی تقاریر اور نسل کشی کی دھمکی دینے والوں کی گرفتاری میں ناکامی پر حکومت پر تنقید کی تھی۔

یہاں یہ ذکربے جانہ ہوگا کہ قبل ازیں سپریم کورٹ کے 76 وکلا نے چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کو مکتوب روانہ کرتے دھرم سنسد میں کی گئی نفرت پر مبنی تقاریر کا ازخود نوٹ لینے کی خواہش کی جس میں مسلمانوں کی نسل کشی پر زور دیا گیا ہے۔ وکلاء نے اس بات پرتشویش کا اظہارکیا کہ ایسی تقاریرسے نہ صرف ملک کا اتحاد اورسالمیت خطرہ میں بلکہ لاکھوں مسلم شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button