پروفیسر عین الحسن کی لفٹننٹ گورنر جموں وکشمیر سے ملاقات اُردو یونیورسٹی کے بڈگام کیمپس کی تعمیر میں تعاون کا تیقن

حیدرآباد، 24 ستمبر (پریس نوٹ) مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے کل لفٹننٹ گورنر جموں و کشمیر جناب منوج سنہا سے ملاقات کی۔ انہوں نے مانو میں اُردو کے فروغ کے لیے چلائے جارہے مختلف تعلیمی اور تحقیقی پروگراموں سے متعلق لفٹننٹ گورنر کو معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے فاصلاتی تعلیم کے مسائل پر بھی گفتگو کی۔ گورنر نے بڈگام(سری نگر) میں مانو کے کیمپس کی تعمیر و ترقی کا میں ہر ممکنہ تعاون کا تیقن دیا۔انہوں نے طلبہ کی رائے (فیڈ بیک) کو ملحوظ رکھنے اور تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنانے کا مشورہ بھی دیا۔
لفٹننٹ گورنر سے ملاقات سے قبل پروفیسر سید عین الحسن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مانو کیمپس، بڈگام کی تعمیر و ترقی میں مقامی حکومت و عوام کا تعاون اہم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تعمیراتی کام کا بہت جلد آغاز ہوگا۔ اس کے علاوہ ہائر ایجوکیشن فنڈنگ ایجنسی (ہیفا) سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیمپس کی تعمیر بعد داخلوں میں مزید اضافہ ہونے کی توقع ہے۔ پروفیسر عین الحسن نے مزید کہا کہ مانو، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے اجازت حاصل کر کے ایک فارن لینگویج کا شعبہ قائم کرنا چاہتی ہے جس میں فارسی، عربی، چینی، جرمن وغیرہ کی تعلیم ہوگی۔
اس سے قبل پروفیسر عین الحسن نے 22ستمبر کو سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر میں منعقدہ قومی اردو سائنس کانگریس کے اجلاس بعنوان ”اردو میں سائنس کی ترسیل، ترویج اور توسیع : امکانات اور مستقبل کے حوالے سے تنظیموں کا کردار“ کی صدارت کی۔ سائنس کانگریس، وگیان پرسار، نئی دہلی اور سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر گاندھربل کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔ وائس چانسلر سائنس کانگریس کے کل منعقدہ اختتامی اجلاس میں مہمانِ خصوصی تھے۔
مختلف سرگرمیوں کے دوران پروفیسر سید عین الحسن نے کل کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ فارسی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ مانو کے سری نگر کیمپس میں بھی بہت جلد شعبہ فارسی قائم کریں گے۔ انہوں نے اردو یونیورسٹی کے ریجنل سنٹر، کالج آف ٹیچر ایجوکیشن اور آرٹس اینڈ سائنس کالج، سری نگر کا دورہ بھی کیا۔ ڈاکٹر اعجاز اشرف، ریجنل ڈائرکٹر،ریجنل سنٹر؛ ڈاکٹر غضنفر علی خان، پرنسپل آرٹس اینڈ سائنس کالج اور ڈاکٹر طارق مسعودی، انچارج پرنسپل سی ٹی ای اور دیگر نے ان کا استقبال کیا