اردو یونیورسٹی میں المنائی سمینار کا انعقاد۔ پروفیسر سید عین الحسن و دیگر کی مخاطبت

فارغ التحصیل طلبہ، یونیورسٹی کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ

 

فارغ التحصیل طلبہ، یونیورسٹی کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ

اردو یونیورسٹی میں المنائی سمینار کا انعقاد۔ پروفیسر سید عین الحسن و دیگر کی مخاطبت

حیدرآباد، 29 نومبر (پریس نوٹ) کسی بھی یونیورسٹی کے لیے اس کے فارغین ایک بہت قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اردو یونیورسٹی بھی اپنے فارغ التحصیل طلبہ کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کیا۔ وہ ہفتہ کے دن ڈین المنائی افیئرس اردو یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ سمینارمیں صدارتی خطبہ دے رہے تھے۔ ”اردو زبان میں تعلیم ہماری کامیابی کا راز“ کے موضوع پر سمینار کا انعقاد عمل میں آیا۔ پروفیسر سید عین الحسن نے مانو المنائی اسوسی ایشن کے تعاون سے منعقدہ اس سمینار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی فارغین کا بڑے پیمانے پر مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں تقرر اردو ذریعہ تعلیم کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ وہ حکومت ہند کے اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت اُردو یونیورسٹی میں زیر تعلیم لڑکیوں کو ٹیلرنگ اور بیوٹیشن جیسے ہنر سے بھی آراستہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ طالبات ہر فن مولا بنیں۔ وائس چانسلر نے فارغین جامعہ پر زور دیا کہ وہ المنائی میٹ کا انتظار نہ کریں بلکہ اپنے شعبہ اور جامعہ کی ترقی کو یقینی بنانے ے لیے وقتاً فوقتاً اپنے مادرِ علمی سے رجوع ہوکر مفید مشوروں سے نوازتے رہیں۔ اس موقع پر انہوں نے موضوع کے مطابق اشعار بھی سنائے۔ پرو وائس چانسلر پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ نے بھی سمینار میں کو مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو یونیورسٹی کے فارغین کے تعاون کو وہ بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے المنائی اسوسی ایشن سے گزارش کی کہ وہ اپنی مادرِ علمی سے جڑے رہیں اور وقتاً فوقتاً اپنے زرین مشوروں سے نوازتے رہیں۔ پروفیسر صدیقی محمد محمود، رجسٹرار انچارج نے فارغین جامعہ پر زور دیا کہ آج کے دور میں عصری زبانوں یا مارکٹ کی زبانوں سے واقفیت بے حد ضروری ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے وضاحت کی کہ اردو زبان سے حصول تعلیم طلبہ کے لیے کسی طرح کی رکاوٹ نہیں ہے بلکہ آگے بڑھنے کا ایک بہترین زینہ ہے۔ابتداءمیں ڈین المنائی افیئرس پروفیسر نجم الحسن نے خیر مقدمی کلمات کہے اور مانو المنائی اسوسی ایشن کے تعاون سے منعقدہ سمینار کے اغراض و مقاصد بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ اردو یونیورسٹی کے فارغین کا تعاون چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو بڑی اہمیت رکھتا ہے اور خود NAAC کی جانب سے اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پروفیسر سنیم فاطمہ، ڈین اکیڈیمکس نے بھی پروفیسر نجم الحسن کو سمینار کے انعقاد کے لیے مبارکباد دی اور کہا کہ کسی بھی یونیورسٹی کی ترقی کے لیے وہاں کے فارغین کا تعاون ناگزیر ہے اور اردو یونیورسٹی اپنے فارغین کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ سمینار میں یونیورسٹی کے متعدد طلبائے قدیم نے اپنے تاثرات، مقالات کی شکل میں پیش کیے۔ پروفیسر سید نجم الحسن نے تمام مقالات کو کتابی شکل میں شائع کرنے کا اعلان کیا۔ سمینار کے کوآرڈینیٹر جناب محمد مصطفی علی سروری، اسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ ¿ ترسیل عامہ و صحافت کے علاوہ اعجاز علی قریشی، صدر مانو المنائی اسوسی ایشن بھی شہ نشین پر موجود تھے۔ آخر میں اعجاز علی قریشی نے شکریہ کے فرائض انجام دیئے۔ سمینار کے آغاز میں ڈاکٹر عبدالعلیم، اسسٹنٹ پروفیسر ڈی ڈی ای نے قرا ت کلام کی سعادت حاصل کی جبکہ ڈاکٹر جرار احمد، اسسٹنٹ پروفیسر تعلیم وتربیت نے نظامت کی۔