ایجوکیشن

مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں چار سال بعد بھی گریجویشن کی تعلیم مکمل نہیں _ وقت پر امتحانات منعقد نہ کرنے سے کئی طلبہ سرکاری ملازمتوں سے ہورہے ہیں محروم

حیدرآباد _ 14 جون ( اردولیکس) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا قیام جس مقصد کے لئے عمل میں لایا گیا تھا ایسا لگتا ہے کہ یہ مقصد دھیرے دھیرے فوت ہوتے جارہا ہے اردو میڈیم کے ایسے طلبہ جو کسی وجہ یا مصروفیات کے باعث ریگولر تعلیم حاصل نہیں کرپاتے انھیں گریجویشن اور دیگر اعلی تعلیم میں فاصلاتی طور پر تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنے کے مقصد کے تحت یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا

یونیورسٹی کی جانب سے وقت پر داخلہ اور امتحانات منعقد نہ کرنے کی ہر وقت طلبہ کی جانب سے شکایات موصول ہوتی رہی ہیں تین سالہ گریجویشن کی تعلیم چار سال بعد بھی مکمل نہیں ہو پا رہی ہے بتایا گیا ہے کہ 2018 بیاچ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کا گریجویشن اب تک مکمل نہیں ہوا۔جس سے یہ طلبہ اپنے مستقبل کو لے کر کافی پریشان ہیں تلنگانہ حکومت کی جانب سے فی الحال ریاست میں 80 ہزار سرکاری ملازمتوں پر تقررات کا عمل جاری ہے جن میں کئی محکمہ پولیس کی 17 ہزار سے زائد ملازمتوں اور گروپ 1 کی 503 ملازمتوں کے لئے نوٹیفکیشن بھی جاری ہوگیا اور درخواست فارم داخل کرنے کی آخری تاریخ بھی ختم ہوگئی۔

ان ملازمتوں کے لئے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں فاصلاتی طرز پر تعلیم حاصل کرنے والے 2018 کے طلبہ درخواست فارم داخل کرنے سے محروم ہو گئے ہیں ان طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر امتحانات منعقد ہوتے اور تین سال کے اندر گریجویشن کی تعلیم مکمل کردی جاتی تو آج وہ بھی سرکاری ملازمتوں کے لئے درخواست فارم داخل کرسکتے تھے طلبہ نے مزید کہا کہ ریاست کی دیگر یونیورسٹیوں میں سال 2018 میں فاصلاتی طور پر داخلہ لینے والے طلبہ کا گریجویشن مکمل ہوگیا ہے ان طلبہ نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور فاصلاتی تعلیم کے ذمدران سے درخواست کی ہے کہ وہ 2018 بیاچ کے فائنل امتحانات کو جلد سے جلد منعقد کرتے ہوئے نتائج جاری کریں۔تاکہ دیگر محکموں میں عنقریب ہونے والے تقررات کے لئے وہ درخواست فارم داخل کرنے کے اہل ہوسکیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button