اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کی اسکیمات

اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کی اسکیمات 

اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب مختار عباس نقوی نے  آج راجیہ سبھا میں  ایک تحریر جواب میں  بتایا کہ حکومت ملک بھر میں اقلیتوں بالخصوص معاشی طور پر کمزور اور پسماندہ طبقات سمیت سماج کے ہر طبقے کی بہبود اور ترقی کے لیے مختلف اسکیمیں نافذ کررہی ہے۔ اقلیتی امور کی وزارت چھ نوٹیفائڈ اقلیتی برادریوں یعنی سکھوں، عیسائیوں، جینیوں، مسلمانوں، بودھوں اور پارسیوں کو تعلیمی طور پر بااختیار بنانے کے لیے مختلف اسکالرشپ اسکیمیں کو نافذ کررہی ہے جس کے تحت چھ مرکزی نوٹیفائڈ اقلیتی برادریوں سے معاشی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے تقریباً 4.52 کروڑ اقلیتی طلبا کو فائدہ ملا ہے اس کے علاوہ، پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم ( پی ایم جے وی کے) نام کی ایک اور اسکیم ہے، جسے وزارت نے ملک کے 1300 شناخت شدہ اقلیتی کثرت والے علاقوں ( ایم سی ایز) میں نافذ کیا ہے جس کا مقصد سماجی اقتصادی اور تعلیمی بنیادی ڈھانچے کے اثاثوں اور بنیادی سہولیات کو ترقی دینا ہے۔  اسکیم کووسیع پیمانے  پر  کوریج کے لیے، سال 2018 میں پی ایم جے وی کے  کے تحت آنے والے علاقوں کو  ملک کے 90 اضلاع سے بڑھا کر 308 اضلاع کر دیا گیا ہے، جس میں 870 بلاکس، 321 ٹاؤنز اور 109 ضلعی ہیڈکوارٹر شامل ہیں۔ پی ایم جے وی کے  کا زور تعلیم، صحت اور ہنرمندی کی ترقی کے شعبوں کے لیے کم از کم 80 فیصد وسائل مختص کرنا ہے جس میں سے کم از کم 33-40 فیصد خواتین پر مبنی پروجیکٹوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ پی ایم جے وی کے کے تحت منظور شدہ تعلیمی پروجیکٹوں کی قسم میں اسکول کی نئی عمارتیں، طلبا کے ہاسٹل، رہائشی اسکول، اسمارٹ کلاس روم، کمپیوٹر لیب، لائبریری، ڈگری کالج، آئی ٹی آئی، پولی ٹیکنک، یونانی میڈیکل کالج، نرسنگ کالج وغیرہ شامل ہیں۔ پی ایم جے وی کے کے تحت 43000 سے بنیادی انفرا اسٹرکچر پروجیکٹ مثلاً اسکول، کالج، ہاسٹل، کمیونٹی سینٹر، کامن سروس سینٹرز، آئی ٹی آئی، پولی ٹیکنک، گرلز ہاسٹل، سدبھاؤنا منڈپ، ہنر ہب وغیرہ ملک بھر کے  پسماندہ اقلیتوں کی کثرت والے  علاقوں میں تیار کئے گئے ہیں۔ 2018 کے بعد، وزارت نے کل 19817 تعلیمی پروجیکٹوں کو منظوری دی ہے جن میں 4571 اضافی کلاس روم (اے سی آر)، 333 اے سی آر بلاکس، 492 اسکولوں کی عمارتیں، 106 رہائشی اسکول، 260 ہاسٹل، 24 ڈگری کالج، 37 آئی ٹی آئیز،8 پولی  ٹیکنک، اسکولوں میں 636 ٹوائلیٹ   اور 13350 اسمارٹ کلاس روم  شامل ہیں۔

 

اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کی اسکیمیں درج  ذیل ہیں:

 

(i) اسکالرشپ اسکیمیں: پری میٹرک اسکالرشپ، پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اور میرٹ کم مینزپر مبنی اسکالرشپ۔

 

(ii) مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن  نے اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی ایسی  ہونہار طالبات کے بیگم حضرت محل نیشنل اسکالرشپ نافذ کی ہے، جن کی  کل سالانہ خاندانی آمدنی 2 لاکھ روپے سے کم ہے، اور جو نویں سے بارہویں جماعت میں پڑھ رہی ہیں۔

 

(iii) مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ اسکیم کے تحت اعلی تعلیم مثلاً ایم فل اور پی ایچ ڈی  کے لئے نوٹیفائڈ اقلیتی برادریوں کے طلباء کو مالی مدد فراہم کرائی جا تی ہے۔

 

(iv) پڑھو پردیس: اقلیتی برادریوں کے طلباء کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لیے بیرون ملک تعلیم کے لیے، تعلیمی قرضوں پر سود پر سبسڈی فراہم کرنے کی اسکیم۔

 

(v) نیا سویرا: مفت کوچنگ اور متعلقہ اسکیم کا مقصد اقلیتی برادریوں کے طلباء اور امیدواروں کو تکنیکی اور پیشہ ورانہ کورسز میں داخلے کے لیے امتحانات میں اہلیت کے ساتھ ساتھ گروپ  ’اے‘، ’بی‘ اور ’سی‘ خدمات اور مرکز و ریاستی حکومتوں اور سرکاری شعبے کے اداروں وغیرہ  میں دیگر مساوی عہدوں کی بھرتی کے لئے  مسابقتی امتحانات میں کامیابی دلانے کے لئے  مدد  کرنا ہے۔ پچھلے سات برسوں کے دوران  اس وزارت کی کوچنگ اسکیم سے تقریباً 69500 امیدواروں کو  فائدہ  پہنچا ہے

(vi) نیشنل مائنارٹیز ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (این ایم ڈی ایف سی) کی تعلیمی قرض کی اسکیم: این ایم ڈی ایف سی، جو کہ اس وزارت کے تحت کام کرنے والا  ایک  پی ایس یو  ہے ، نے تعلیمی قرض کی اسکیم نافذ کی ہے جس کا مقصد اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے اہل افراد کے لیے ملازمت پر مبنی تعلیم کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ ’ٹیکنیکل اور پروفیشنل کورسز‘ کے لیے قرض دستیاب ہے جس کے لیے گھریلو کورسز کے واسطے 20 لاکھ اور روپے تک اور بیرون ملک کورسز کے لیے 30 لاکھ روپے  تک کا قرض فراہم کرایا جاتا ہے۔

 

اس کے علاوہ، مدارس/اقلیتوں کو تعلیم فراہم کرنے کی اسکیم (ایس پی ای ایم ایم)، جن میں پہلے سے موجود دو اسکیموں کو شامل کیا گیا ، یعنی مدارس میں معیاری تعلیم فراہم کرنے کی اسکیم ( ایس پی کیو ای ایم) اور اقلیتی اداروں میں انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ (آئی ڈی ایم آئی)، جن کو وزارت  اسکولی تعلیم اور خواندگی کے محکمے سے اس وزارت کو یکم اپریل 2021 سے منتقل کیا گیا ہے۔  ایس پی کیو ای ایم  کا مقصد روایتی اداروں جیسے مدارس اور مکتبوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ اساتذہ کو سائنس، ریاضی، سماجی علوم، ہندی اور انگریزی پڑھانے کے لیے مالی مدد فراہم کی جا سکے، جس سے کہ ان اداروں میں پڑھنے والے بچوں کے لیے پہلی سے بارہویں  جماعت تک کی  تعلیمی مہارت  قابل حصول  ہو سکے۔ روایتی مدارس اور مکتبوں کی جدید کاری کا عمل رضاکارانہ ہے۔ آئی ڈی ایم آئی کا مقصد اقلیتی اداروں (ایلیمنٹری/سیکنڈری/سینئر سیکنڈری اسکولوں) میں اسکول کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھا کر اور مضبوط بنا کر اقلیتوں کی تعلیم میں سہولت فراہم کرنا ہے تاکہ اقلیتی برادریوں کے بچوں کو رسمی تعلیم کی سہولیات کو وسعت دی جاسکے۔

 

اس کے علاوہ، وزارت تعلیم کے اسکولی تعلیم اور خواندگی کے محکمہ (ڈی او ایس ای ایل) نے سمگرا شکشا اسکیم  نافذ کی ہے اور اس اسکیم کا ایک بڑا مقصد اسکولی تعلیم کی تمام سطحوں پر اقلیتوں سمیت صنفی اور سماجی زمرے کے فرق کو ختم کرنا ہے۔  اس اسکیم کا مقصد  ایس سی، ایس ٹی، اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے اور ٹرانس جینڈر سمیت بچوں تک پہنچنا ہے۔ اس اسکیم میں شہری محروم بچوں، وقتاً فوقتاً نقل مکانی سے متاثر ہونے والے بچوں، اور دور دراز اور بکھری ہوئی بستیوں میں رہنے والے بچوں پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ انٹیگریٹڈ اسکیم اندراج، برقرار رکھنے، اور صنفی برابری کے مختلف اشاریوں کے ساتھ ساتھ ایس سی، ایس ٹی اور اقلیتی برادریوں کے کثرت والے شناخت شدہ خصوصی توجہ والے اضلاع (ایس ایف ڈیز) پر بھی توجہ مرکوز کرتی ہے۔