کریم نگر کے گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن میں قومی یوم تعلیم کا انعقاد

 

کریم نگر _ گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن،کریم نگر میں برورز جمعرات /11نومبر2021کوشعبہ اردوکی جانب سے قومی یوم تعلیم منعقد کیاگیا۔اس پروگرام کی صدارت پرنسپل ڈاکٹر ٹی۔سری لکشمی نے انجام دیا۔جبکہ مہمان خصوصی کے حیثیت سے ڈاکٹر جعفرجری پرنسپل کالج آف آرٹس اینڈسائنسس،شاتاواہانہ یونیورسٹی نے مولاناابوالکلام آزاد کی تعلیمی خدمات پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ مولانا آزادنے تعلیمی یافتہ ہندوستان کی بنیاد رکھی تھی۔ مولانا آزاد نے یوجی سی،آئی ایس ایس آر،آئی آئی ٹی،اے آئی سی ٹی ای، سنگیت اکیڈمی،ساہیتہ اکیڈمی سمیت کئی تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا۔انھوں نے کہاکہ آزاد نے تعلیمی نسواں کو اہل وطن کیلئے ضروری قرار دیا اور مسلم معاشرہ میں بھی تعلیم کے تئیں بیداری پیداکرنے میں اہم رول اداکیا۔عظیم مجاہد آزادی مولانا آزاد نے مہاتماگاندھی اور دیگرمجاہدین کے ساتھ ملکرجنگ آزادی میں اہم رول ادا کیاتھا

 

۔اس جلسہ کے اعزازی مہمان کے حیثیت سے ساجدمعراج سینئرجرنلسٹ وکالم نگار مدعوتھے، جنھوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافتی خدمات پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مولانا آزاد نے گیارہ بارہ سال کی عمر میں صحافتی میدان میں قدم رکھاتھا،اور کم وبیش اٹھائس برس تک اس سے وابستہ رہے۔بیسویں صدی کے آغازمیں ایک انقلابی صحافی کے روپ میں اردو صحافت کے افق پر ظاہرہوئے اورصحافت کوایک نئی راہ دیکھائی۔مولانا نے سب سے پہلے نیرنگ عالم نامی ادبی پرچہ نکالاتھا، جس کے بعد1903میں دوسرارسالہ لسان الصدق نکالا جواجتماعی دینی رنگ کا عکاس،ایک علمی واخلاقی اورتاریخی اخبار تھا۔جس کے بعد13جولائی 1912میں الہلال اخبارنکالا جو 1914تک مسلسل نکلتا رہا۔لیکن ان کی انقلابی تحریروں کی وجہ سے انگریزحکومت نے سیاسی بدامنی پھیلانے کے الزام میں اسے بندکردیا جس کے بعد مولانا آزادنے 1914میں ووبارہ اسے البلاغ کے نام سے نکالا،لیکن ریاست بنگال کی حکومت نے اسے بندکردیا۔پھرمولانا آزاد نے10جون 1927کواسے پھر الہلال کے نام سے نکلا لیکن چھ مہینے سے زیادہ نہ نکل سکا اور حالات کی سختی و ابتری کی وجہ سے یہ ہمیشہ کیلئے بند ہوگیا۔انھوں نے اپنے ہراخبارکو انگریزحکومت کے خلاف لکھنے اور اس کوملک سے نکالنے کی کوشش کیلئے وقف کردیا تھا۔ان کے بااثرکلمات خشک اورسوکھی گھانس میں شعلہ کی طرح تھے،جن کی آگ بہت کم وقت میں ملک کے کونے کونے تک پہنچ جاتی تھی

۔مولاناآزاد کواپنے سیاسی موقف کی وجہ سے باربارقیدوبند کی صحوبتیں اٹھاناپڑیں،طویل مدت تک جیل میں رہنا پڑا،مالی جرمانے بھی برداشت کرنے پڑے لیکن وہ اپنے موقف پرقائم رہے۔ساجدمعراج نے اردو میڈیم کی طالبات کواحساس کمتری سے باہر نکلتے ہوئے تعلیم جاری رکھنے اوربالخصوص صحافتی میدان میں قدم رکھ کرملک و ریاستی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔

 

ان کے علاوہ سمپت کمار ریڈی وائس پرنسپل،ڈی۔ایس چکراورتی اسسٹنٹ پروفیسرانگلش نے بھی طالبات کومفید مشوروں سے نوازا۔اس پروگرام کے اختتام پر ایم۔اے اردو میں اسیٹیٹ رینکرزکومومنٹوزپیش کئے گئے۔ اس سال CPGET-2021 میں نمایاں رینکس حاصل کرنے والوں میں سمرین سلطانہ نے پورے اسٹیٹ میں تیسرا مقام حاصل کیا،عصمت سلطانہ نے چوتھا رینک حاصل کیا،عائشہ تبسم ساتواں،عرشیہ جمیل نواں،ناہیدہ بیگم گیارہواں مقام کیا اورجملہ11طالبات اسٹیٹ رینکس حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔اس پروگرام کے آرگنائزرکلیم محی الدین اسسٹنٹ پروفیسر اردوتھے۔نازیہ رحمن کے شکریہ پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔ اس پروگرام میں جبین سلطانہ لکچرر سیاسیات،عرشیہ سلطانہ لکچرر معاشیات اور دیگراساتذہ سمیت طالبات کی کثیرتعداد نے حصہ لیا۔