حکومت کسانوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور .ایم ایس پی قانون کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہو گی۔…..نظام الدین خان

file photo

لکھنؤ : مرکزی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے تینوں کالے زرعی قوانین کو غیر مشروط طور پر واپس لینے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے عوامی اعلان پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا اتر پردیش کے صدر نظام الدین خان نے کہا ہے کہ تینوں زرعی کالے قوانین کے خلاف ایک سال سے زائد عرصے سے جاری کسانوں کی زبردست تحریک نے مودی حکومت کو ملک کے کسانوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اس طرح کسانوں نے جنگ کا پہلا مرحلہ جیت لیا اور یہ تحریک ملک اور ریاست میں سچائی، عدم تشدد اور جمہوریت کو زندہ کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس تحریک کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے پسماندہ طبقات، دلتوں، مسلمانوں، سکھوں اور آدیواسیوں، کسانوں اور مزدوروں کو کشمیر سے کنیا کماری تک متحد کرکے ظالم حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ زرعی پیداوار کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر قانون بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔ کسان تحریک کی کامیابی کے لیے ملک اور ریاست کے تمام کسانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر نے تحریک کی قیادت کے لیے متحدہ کسان مورچہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا شروع ہی سے اس تحریک میں کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور مستقبل میں بھی ان کے ساتھ رہے گی۔