کرفیو میں تراویح پڑھنے کی تدابیر تلاش کریں — ریاست تلنگانہ کی مساجد کمیٹیوں کو تجویز

 

*سیف الاسلام فاروقی*

 

حکومتِ تلنگانہ کے حکمنامہ نمبر G.O.Ms.No.87 کے مطابق آج رات 9 بجے تا صبح 5 بجے اشیاء ضروریہ، طبی ضروریات وغیرہ کی گنجائش کے ساتھ کرفیو رہے گا—

 

ریاست تلنگانہ کی مساجد کمیٹیوں سے گزارش ہے کہ وہ امت کو تراویح سے محروم نہ کریں بلکہ وقت کا لحاظ کرتے ہوئے گنجائش تلاش کرنا چاہیئے جیسا کہ تخفیف شدہ شکل کے ساتھ میسر وقت میں بھی تراویح کی چند رکعات ادا کی جاسکتی ہیں—

 

تراویح ایک نفل نماز ہے لیکن امت کی تربیت اور رمضان المبارک سے فائدہ اٹھانے کا جو رجحان امت میں موجود ہوتا ہے اس کو پروان چڑھانے کی تمام ممکنہ تدابیر تلاش کرتے رہنا چاہئے تاکہ ڈر و خوف کا ماحول ختم ہو اور ملت کا مساجد سے رشتہ بھی باقی رہے—

 

میری اس التجا کا مدعا ہرگز حکومت کے حکمنامہ پر عمل کرنے سے منع کرنا نہیں ہے بلکہ نادانی کے کسی بھی ممکنہ عمل سے روکنا ہے جو حکومت تلنگانہ اعلامیہ میں اشارہ کنایہ میں بھی مطالبہ نہیں کیا گیا ہے—

 

مساجد کی کمیٹیوں کے ذمہ داروں سے توقع ہے کہ وہ دانشمندی اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تراویح کے سلسلے میں درست فیصلہ کریں، کوئی بھی ناعاقبت اندیش اور انتہاپسند فیصلہ فرقہ پرست ذہنیت کے حوصلے بلند کرے گا—

 

موجودہ حالات میں ایک ماڈل حکومت سعودی عرب کا بھی ہے، مملکت سعودی عرب نے اپنے ملک میں موجود مساجد انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ 20 منٹ میں نمازِ عشاء اور تراویح ادا کرلیں—

 

تراویح کو جاری رکھنے کے حکیمانہ فیصلے سے بہت سارے دوررس فائدوں کے علاوہ ایک فائدہ یہ ہوگا کہ مسلمان اپنے محلے کی مسجد میں تراویح ادا کریں گے، اسکی کی ایک عملی اور قابلِ تقلید مثال حیدرآباد کی مسجد فردوس، وجئے نگر کالونی نے پیش کی ہے جس میں آج میں نے تراویح ادا کی، وہاں پر بڑے اطمینان سے ہر رکعت میں چند آیات تلاوت کرتے ہوئے تراویح مکمل کی گئی—

 

*جو ہر مسجد میں عین ممکن ہے وہ یہ ہے کہ فجر سے مغرب تک ہر نماز کے بعد اعلان ہوتا رہے کہ عشاء کی اذان اول وقت میں ہوگی اور  جماعت اذان کے فوری بعد کھڑی ہو جائے گی, اس طرح اول وقت سے شروع کرکے چند منٹ بچائے جاسکتے ہیں , نماز عشاء اور تراویح بھی ادا ہوجائے گی اور 9 بجے کی پابندی بھی ہوجائے گی اور اس طرح طاغوت کی غیر مطلوب اطاعت سے بھی بچا جاسکتا ہے*

 

وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّـهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ

 

ترجمہ: اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں—