جنرل نیوز

حج کمیٹی اور چشتی فاؤنڈیشن کا مصری گنج میں عازمین کے لئے تربیتی اجتماع _ علماء مشائخ کا خطاب

حج عظیم نعمت، منتخب عازمین انتہائی خوش نصیب

 

حیدرآباد 12 جون (پریس نوٹ) تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی کے زیر اہتمام اور چشتی فاؤنڈیشن حیدرآباد کے اشتراک سے منعقدہ عازمین حج کے مرکزی تربیتی اجتماع کا محبوب فنکشن ہال مصری گنج میں کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ اس تربیتی اجتماع میں سینکڑوں کی تعداد میں مرد و خواتین عازمین کی کثیر تعداد شریک تھی۔

مولانا مفتی محمد انوار احمد قادری نائب شیخ التفسیر جامعہ نظامیہ نے حج کے 5 دن عنوان پر خطاب میں کہا کہ حج بیت اللہ اور زیارت مدینہ منورہ کائنات کی سب سے عظیم نعمت ہے ،خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس سعادت کیلئے منتخب کئے گئے ہیں۔ حج کے پانچ دن کا طریقہ نہایت آسان ہے ، ہم بے وجہ پریشان رہتے ہیں ۔ حج کو اخلاص کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے ،حج کے تمام مناسک و ارکان حضور قلب اور للہیت سے ادا کریں۔ منی کا قیام دراصل پیغمبر اسلام ﷺ کے اسوہ پر عمل پیرا ہونے کا اعلان ہے، پھر عرفات میں رب کی رضا کو حاصل کیا جائے۔ مزدلفہ بندگی کو اپنی معراج پر پہنچانا ہے۔ دسویں ذی الحجہ کو نہ صرف ہم شیطان کو ذلیل کرتے ہیں بلکہ رحمن سے وابستگی کا عہد کرتے ہیں۔ گیارہ اور بارہ کو یہ پیمان مزید مستحکم کیا جاتا ہے ، اس طرح اخلاص و للہیت کے ساتھ حج مکمل ہوتا ہے۔

مولانا سید محمد علی قادری الہاشمی ممشاد پاشاہ صدر مرکزی مجلس قادریہ نے کہا کہ زیارت روضہ نبوی بہت بڑی سعادت، عظیم عبادت، کمالات حج سے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کو پانے کا ذریعہ ہے، حضور اقدس ﷺ اپنی قبر ِانور میں حقیقی دنیوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں۔ حدیث نبوی میں زیارت روضہ نبوی کی سعادت پانے والے کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ جو میری قبر کی زیارت کرے اس کے لئے میری شفاعت واجب ہے۔ روضہ نبوی پر حاضری دینے والے کو حضور اقدس ﷺ بنفس نفیس ملاحظہ فرماتے ہیں اور اس کا سلام حضوراقدس ﷺ بلاواسطہ سنتے اور جواب دیتے ہیں۔مدینہ پاک میں شرف قیام سے مشرف ہونے والے خالصتاً روضہ انور کی زیارت کی نیت کریں، آداب کا خاص خیال رکھیں کیونکہ ہلکی سی بے احتیاطی سخت محرومی کا سبب بن سکتی ہے، غیر ضروری باتوں سے گریز کرتے ہوئے درود شریف کی کثرت کریں۔ اگر آپ کوکسی نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں سلام پیش کرنے کے لئے کہا ہو تو اس کی طرف سے سلام ضرور پیش کریں۔

مولانا سید احمد پاشاہ قادری زرین کلاہ معتمد عمومی کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن اسمبلی یاقوت پورہ نے کہا حج ایک معین اور مقرر وقت پر اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کی طرح اُس کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اس کے خلیل حضرت ابراہیمؑ اور حضور اکرم ﷺ کی پیاری اداؤں کی نقل کرتے ہوئے ان کے انداز محبت سے اپنی وابستگی اوروفاداری کا ثبوت دینا ہے۔ اسلامی عبادات میں حج کا مقام نہایت ارفع و اعلیٰ ہے۔ اس میں اِجتماعیت کا حقیقی تصور پایا جاتا ہے، حج کی صورت میں عالم اسلام کی اجتماعیت کا حسین منظر‘ حسن اسلام کو ظاہر کرتا ہے۔ ساری دنیا سے مختلف رنگوں‘ قوموں اور مختلف زبانیں بولنے والوں کامیدانِ عرفات میں جمع ہونا‘ عقیدہ توحید و رسالت پر یقین اور وحدتِ اُمّت کا درس دیتاہے۔ اختلاف و انتشار کی نفی کرتا ہے۔

مولانا عرفان اللہ شاہ نوری صدر مرکزی انجمن سیف الاسلام نے کہا کہ حج عبادات کا مرقع دین کی اصلیت اور اس کی روح کا ترجمان ہے۔ بیت اللہ کی زیارت اور فریضہ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکاری کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا،جب حاجی لبیک کہتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے دائیں اور بائیں جانب جو پتھر، درخت اور ڈھیلے وغیرہ جو ہوتے ہیں وہ بھی لبیک کہتے ہیں اور اسی طرح زمین کی انتہا تک یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ یعنی ہر چیز ساتھ میں لبیک کہتی ہے۔ مولانا حافظ عرفان قادری نائب نگران سنی دعوت اسلامی تلنگانہ نے کہا کہ ایمان و جہاد کے بعد حج افضل ترین عمل ہے۔ حج کے دوران اگر کسی سے کوئی شہوانی فعل اور کسی گناہ کا ارتکاب نہ ہو تو حاجی گناہوں سے یوں پاک ہو کر واپس ہوتا ہے جیسے آج ہی پیدا ہوا ہے۔حج مبرور کا بدلہ جنت ہے۔حج کرنے والے اللہ کے مہمان ہوتے ہیں،حاجی کی زندگی قابل رشک اور وفات قابل فخر ہوتی ہے، حدیث نبوی میں ہے کہ جو شخص رضاء الٰہی کےلئے اس طرح حج کرتا ہے کہ اس میں کسی قسم کی فحش اور برائی کی بات نہ کرے اور کسی قسم کی معصیت اور گناہ میں مبتلا نہ ہو تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر لوٹے گا، جس طرح ماں کے پیٹ سے گناہوں سے پاک دنیا میں آیا تھا۔

نگران اجتماع مولانا خواجہ شاہ محمد شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاہ صدر چشتی فاونڈیشن حیدرآباد نے کہا کہ حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ اسلام میں نماز و روزہ صرف بدنی عبادات ہیں، زکوٰۃ صرف مالی عبادت ہے، جبکہ حج و عمرہ، مالی و بدنی ہر قسم کی عبادات کا مجموعہ ہے۔ حج کی فرضیت پر امت کا اجماع ہے۔ حج ایک مرتبہ ہر اس مسلمان پر فرض کیا گیا ہے، حج کی استطاعت حاصل ہوجائے تو اس کی ادائیگی میں جلدی کرنا ضروری ہے۔ جناب عرفان شریف اسسٹنٹ ایگزیکٹیو آفیسر ریاستی حج کمیٹی نے سفر حج کے انتظامی امور پر روشنی ڈالی۔

ابتداء میں قاری محمد محی الدین افتخاری واصل پاشاہ کی قرأت سے اجتماع کا آغاز ہوا۔ جناب محمد شفیع قادری، مرزا عارف اللہ بیگ قادری، جناب عبدالرزاق قادری نے نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔ جناب ایم اے مقتدر بابا کارپوریٹر جہاں نماء و کنوینر اجتماع نے خیر مقدم کیا اور مہمانوں کو تہنیت پیش کی۔ مسرس حافظ شاہ محمد عبدالقدیر صادق، حبیب محی الدین افتخاری، محمد انور علی، سید ناصر، ارشد الدین ابوالعلائی اور دوسروں نے انتظامات میں حصہ لیا۔ جناب محمد معجز چشتی نے شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button