جنرل نیوز

میدک میں گستاخ رسول ﷺ کے خلاف ریالی _ نوپور شرما کے خلاف شکایت

میدک10جون(اردو لیکس نیوز)(حافظ محمد فصیح الدین میدک)مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن شانِ رسالت مآب ﷺ کی شان میں ذرا برابرگستاخی کو ہر گز برداشت نہیں کرسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار محمد عارف علی امجد نمائندہ مجلسی کونسلر نے آج شانِ رسالت مآب ﷺ اور حضرات خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ کی شان میں فرقہ پرست افراد کی جانب سے کی گئی بد زبانی کو لیکر منعقدہ احتجاجی ریالی کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ بھاجپا کی سابقہ اسپوکس پرسن اور نوین جندل جس نے شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی کی ہے انہیں فوری گرفتار کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ صرف پارٹی سے بیدخل کردینا کوئی معنیٰ نہیں رکھتا لہذا اسے فورا گرفتار کیا جانا چاہئیے۔ہم لوگ آج اس احتجاجی ریالی کے ذریعہ یہ ہی مسیج حکومت کے اعلیٰ عہدداران تک اور قانون دانوں تک پہونچانے چاہتے ہیں کہ جلد از جلد ان نالائقوں کی گرفتاری عمل میں لائی جائے۔اور فی الفور انہیں پھانسی دی جائے۔

محمد عارف علی امجد نے مزید کہاکہ ہمارا ملک جمہوری ملک ہے لہذا یہاں قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے ہم ہماری ساری کوششیں ان ناپاک لوگوں کے خلاف کرتے رہینگے لیکن اگر یہی گستاخی کی حرکت عرب ممالک میں کی جاتی تو کبھی کہ ان گستاخو ں کا سر قلم کیا جاچکا ہوتا تھا۔اس موقع پر سابق مجلسی کونسلر خواجہ سہیل محی الدین نے بات کرتے ہوئے کہاکہ آج کی احتجاجی ریالی میں پولیس کا دونظریاتی رویہ دیکھا گیا گیا ہے۔انہوں نے میدک پولیس سے سوال کیا کہ جب دوسرے لوگ ریالی نکالتے ہیں تو اس موقع پر آپ کا 30 اور 30 اے ایکٹ نافذ کیوں نہیں ہوتا۔اور پولیس کاغیر منصفانہ فیصلہ اور ساری چیزیں اللہ تعالیٰ دیکھ رہے ہیں ضرور وہ ان لوگوں کو بدلہ دئینگے۔

مسٹر خواجہ سہیل محی الدین نے بھاجپا کی سابقہ اسپوکس پرسن نوپور شرما اور نوین جندل ان گستاخوں کے خلاف بات کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ ان گستاخوں کو نیست و نابود کردے۔اور جس طریقہ سے کیلیش تیواری کا انجام ہوا ہے بالکل اسی طریقہ سے ان لوگوں کا بھی ہوجائے

۔اس موقع پر حافظ محمد عبد الجلیل عرف جمیل امام وخطیب مسجدِ قاضیان واستاذ مدرسہ عربیہ مدینتہ العلوم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے مذہبِ اسلام میں کسی دوسرے مذاہب کے بارے میں یا ان کی کتابوں کےاور ان کے بڑوں کے بارے میں غیر غلط باتیں کہنا نہیں ہے۔اور اسلام نے اور قرآن نے ان چیزوں سے ہمیں منع کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پیغمبر ِ اسلام ﷺ ہمارے لئے سب سے بڑے ہیں اور ہم مسلمان کسی دوسرے مذہب کے بڑے لوگوں کے بارے میں بھی غلط نہیں بولتے تو آج بھاجپا کی نوپور شرماغیر غلط باتیں کس طرح بول سکتی ہیں؟!انہوں نے اپنے خطاب کے دوران ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسے صرف پارٹی سے برطرف کردینا یہ ناکافی ہے بلکہ اس کی فورَا گرفتاری عمل میں لائی جائے۔انہوں نے کہاکہ نوپور شرما کی حرکت دہشت گردی سے مترادف ہے۔اور کسی کو کسی دوسرے کے مذہب کے بارے میں اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں ہے ۔ہر شخص کو دوسرے کے مذہب کا احترام کرنا چاہئیے۔حافظ عبد الجلیل جمیل نے سوال کیا کہ آپ ہمارے پیغمبر ﷺ کے بارے میں آخر جانتے کیا ہیں جو من مانی باتیں اُن کے بارے میں کر رہے ہیں۔انہوں نے بھاجپا سرکار اور پولیس سے کہاکہ وہ دوہرا رویہ نہ اپنائے۔انہوں نے کہاکہ نوپور شرما نے جس طریقہ سے گستاخی کی ہے اگر یہی گستاخی کوئی مسلمان کسی کے مذہب کے بارے میں کہے گا تو اس کو گرفتار نہیں کیا جاتا تھا؟۔لہذا جلد از جلد ان گستاخوں کی گرفتاری عمل میں لائی جائے۔اس موقع پر صدر ٹاؤن تلگو دیشم پارٹی محمد افضل نے تلگو زبان میں بات کرتے ہوئے اللہ کے نبی ﷺ کا واقعہ جو بوڈھی عورت کے کچرا پھینکنے سے متعلق ہے ا سے بتلایا اور کہاکہ اسلام پر امن مذہب ہے اور اسلام میں کسی دوسرے مذاہب کے بارے میں غلط بولنے سے منع کیا گیا ہے۔اور ایک مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن اللہ کے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی ہوگی تو اسے ہرگز برداشت نہیں کرسکتا ہے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ کل میدک کے مقامی چند لوگ نمائندہ کونسلر محمد عارف علی امجد کی نگرانی میں دفتر ڈی ایس پی میدک پہونچ کر ڈی ایس پی میدک سے بات کرتے ہوئے ریالی کی اطلاع دئے تھے اور کہاکہ تھا کہ ٹاؤن کے جامع مسجد سے پولیس اسٹیشن تک یہ ریالی نکالی جائےگی لیکن پولیس نے آج صبح کی اولین ساعتوں میں مقامی دیگر ذمہ داران اور ریالی کے ذمہ داران سے بات کرتے ہوئے کہاکہ جامع مسجد چونکہ مارکٹ کے علاقہ میں واقع ہے اور وہاں آج جمعہ ہونے کی وجہ سے بازار بھی لگتا ہے ایسے میں اگر آپ لوگ ریالی نکالتے ہیں تو عوام کو مشکلات پیش آسکتی ہیں اور پھر پولیس نے ذمہ داران ریالی نکالنے کی اجازت نہیں ہے۔لہذا پولیس کے غیر منصفانہ فیصلہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں نے جامع مسجد کے بجائے ٹاؤن کے کرسٹل گارڈن فنکشن ہال سے ریالی نکالنے کا ارادہ کیا اسی اثناء میں پولیس کی بھاری جمعیت وہاں پہونچ گئی۔اور مقامی چند ذمہ داران اور پولیس کے درمیان بات چیت کے بعد ریالی نکالی تو گئی لیکن صرف کچھ میٹر کے فاصلے پر ہی ریالی کوپولیس میدک نے روک دیا۔اور پولیس نے صاف طور سے کہہ دیا کہ ریالی کی اجازت کسی کو بھی نہیں ہے ۔اور پولیس نے یہ بھی کہاکہ ہمارے پاس پہونچ کر درخواست دیں . اس احتجاجی ریالی میں مقامی  مساجد کے ائمہ موذنین کے علاوہ عام لوگ ہی کثیر تعداد میں شریک رہے۔ذمہ داران نے پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button