جنرل نیوز

آصفیہ سلاطین کی تاریخ پر بیدر میں دو اور تین جولائی کو دو روزہ کانفرنس    

بیدر _ 28 مئی ( پریس ریلیز) آصفیہ سلاطین کی 233 سالہ تاریخ کے موضوع پر بیدر (کرناٹک)میں 2اور 3 جولائی کو دو روزہ ورکشاپ منعقد ہوگا اس بات کا اعلان مسٹر گویند ریڈی ڈپٹی کمشنر بیدر نے ڈی سی میٹنگ ہال بیدر میں ”حیدرآباد کرناٹک پردیشدا اتہاس رچنا سمیتی” (حکومتِ کرناٹکا) کے خصوصی اجلاس کے صدارتی خطاب میں کیا۔

انہوں نے کہا یہ ورکشاپ ویٹرنیری یونیورسٹی بیدر کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوگا۔ اجلاس کا آغاز مسٹر لکشمن دستی سکریٹری سمیتی کے خیرمقدمی خطاب سے ہوا۔انہوں کہ ریاستی حکومت نے کلیان کرناٹکا (حیدر آباد کرناٹکا) کی 1724 سے 1956 تک کی تاریخ قلمبند کرنے کے لئے ”حیدرآباد کرناٹک پردیشدا اتہاس رچنا سمیتی تشکیل دی گئی ہے۔اس سلسلہ میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قمر الدین علی خان سے میر عثمان علی خان یعنی ”آصفیہ سلطنت” کے قیام سے آزادی ہند تک کی تاریخ کے علاوہ دکن کے جمہوری نظام میں شمولیت اور تحریکِ جدوجہد آزادی، فضل علی خان کمیشن کی لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی جدید حد بندیاں اور اس علاقہ کے لئے دفعہ371 کے تحت حاصل خصوصی مراعات وغیرہ کی تاریخ و تحریک کسی بھی تعلیمی نصاب میں شامل نہیں تھے جس کے لئے حکومت نے ”حیدرآباد کرناٹک پردیشدا اتہاس رچنا سمیتی” کی تشکیل عمل میں لائی ہے۔

ازروئے حکم نامہ ریجنل کمشنر اس سمیتی اور کمیٹی کے صدر ہیں جن کی رپورٹ پر گلبرگہ یونیورسٹی میں جلد از جلد اسٹڈی چیئر(پیٹھا) کا باضابطہ قیام بھی عمل میں آئے گااور مستعدی سے اس کی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے مختلف شعبوں کے ماہرین کی خدمات و تعاون بھی حاصل کیا جائے گا۔سمیتی کے اراکین اس کمیٹی کے بورڈ آف ایڈوائزری میں شامل ہوں گے۔ڈاکٹر مہابلیشور اپپا موظف پروفیسر شعبہ تاریخ نے کہا کہ ”اورل ہسٹری” کے مواد کی دستیابی کے حصول کے لئے اضلاع، تعلقہ جات اور موضوعات میں بھی پروگراموں کے انعقاد کی تجاویز کے ساتھ ساتھ مختلف یونیورسٹیوں میں اس علاقہ کی تاریخ پر ہوئے تحقیقی کام سے استفادہ پر بھی توجہ مرکوز کی جارہی ہے

اور اس خصوص میں متعلقہ محققین کو باضابطہ ذمہ دارانہ کام سونپا گیا ہے۔پروفیسر دیانند اگسر وائس چانسلر گلبرگہ یونیورسٹی نے کہا کہ اس کام کو منظم اور انتہائی بہتربنانے کے لئے ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور تاریخ کے اس تحریری کام کو مقررہ وقت میں پایائے تکمیل کو پہنچایا جائے گا،مسٹر شکیل نے علاقہ حیدرآباد کرناٹک کے موضوع پر لکھی اپنی کتابوں کو پیش کرتے ہوئے اس علاقہ کے کئی اہم اور نادر تحقیقی واقعات کو پیش کیا اور مطالبہ کیا کہ یہ سب ہماری تاریخ کا اٹوٹ حصہ ہیں جنہیں دستیاب تمام مضبوط حوالوں کے ساتھ تاریخ اور تعلیمی نصاب شامل کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر وہاب عندلیب گلبرگہ، ڈاکٹر ماجد داغی اور ڈاکٹر راجندر پرساد وجئے نگراراکین حیدر کرناٹک پردیشدا اتہاس رچنا سمیتی،ڈاکٹر دلیپ کمار ڈین ویٹرنری یونیورسٹی بیدر و دیگر نے شرکت کی اور انہیں دی گئی ذمہ داری کو وقتِ مقررہ پر تکمیل کرتے ہوئے اعلان کردہ ای میل اور واٹساپ پر ارسال کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ مسٹر لکشمن دستی کے شکریہ پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button